Monday, 27 January 2014

خوش بختی کا راز علم اور عزم

لاکھ لاکھ شکر اس ذات کا جس نے ہم کو یہ موقعہ دیا اور توفیق بھی کہ جیتے جی یہیں اِسی زندگی میں اُس کی پہچان کر جائیں۔ اُس سے متعار ف ہونا.. اُس سے یہیں واقف ہو کر جانا.. اُس سے معرفت پا کر دُنیا چھوڑنا .. اور اُس سے آگاہی کی حالت میں موت پانا .. اِس سے بڑی بھائیو کوئی نعمت نہیں۔
کتنے ہیں جو یوں ہی یہاں جان سے گزر جائیں گے اس حال میں کہ اُس کو پہچان تک نہ پائے ہوں۔ خدا بھائیو بدقسمتی سے بچائے۔ بہتیرے ہیں جو اس جہان سے جا کر ہی کائنات کے مالک سے پہلی بار آشنائی پائیں گے۔ ایک اتھاہ حیرانی اور پشیمانی یوں ان کا مقدر بنے گی۔ یکایک یہ اُس ذات سے آگاہی پائیں گے جس کی شرط یہ تھی کہ وہ اُس سے یہاں واقف ہو کر اُس کے ہاں پہنچیں اور عمدگی سے تیار ہو کر اور بندگی کے ساتھ سج کر اُس کے پاس آئیں۔ جس نے یہ تھوڑا سا وقت دیا ہی اسلئے تھا کہ یہاں اُس کی اچھی طرح پہچان کر لیں تو پھر یہ دُنیا چھوڑیں۔ بدبختی کی بات، جہاں اُس کو ماننا تھا وہاں یہ اُس کو مان کر دینے کے نہ ہوئے۔ اب وہاں جائیں گے تو اُس کو خوب پہچانیں گے۔ خوب مانیں گے۔ پر بدقسمتی۔ اِن کا اُس عظیم ذات کو تب جاننا اور یوں اُس وقت جا کر اُس مہربان سے متعارف ہونا ایک خوش نما واقعہ ہونے کی بجائے خوفناک اور جان لیوا حادثہ ہوگا۔ اندازہ تو کریں، ارحم الراحمین کا سامنا ہونے کا وقت ہو، ادھر آدمی کو اس ملاقات پر کوفت ہو!
مَن أحبَّ لقاءَ اللّٰہِ أحبَّ اللّٰہُ لقاءَہ، ومن کَرِہَ لقاءَ اللّٰہِ کرہ اللّٰہُ لقاءَہ (رواہ مسلم)
”جس کو اللہ سے ملنا محبوب ہو، اللہ کو اس سے ملنا محبوب ہوتا ہے۔ جس کو اللہ سے ملنا ناگوار ہو، اللہ کو اس سے ملناناگوار ہوتا ہے“!
وہ ذات جو حسن اور راحت اور لطف کی خالق ہے اور جس نے انسان میں قدرت، لذت اور حسنِ ذوق کو وجود دیا.. اس سے ملنے کا وقت تو آئے پر عین اس وقت آدمی حسرت اور افسوس اورندامت کے سمندر میں غرق ہو! زندگی کو عدم سے وجود میں لانے اور پھر اس کو رنگوں، خوشبوﺅں، خوشیوں اور مسکراہٹوں سے بھر دینے والی ذات کا سامنا کرنے سے آدمی کی جان جاتی ہو اور آدمی اس کو ایک ناگوار اور ناگہانی حادثہ جانے!
پر صاحبو ایک بڑی خلقت کے ساتھ یہ حادثہ تو روز ہوتا ہے۔ یہ بھیانک حادثہ بہتوں کا نصیب بنتا ہے۔ قبروں کے نیچے یہ جو ایک دُنیا بسی ہے خدا ہی جانے کس پر یہاں کیا گزری ہے۔ استغفراللہ۔ اس سے ہولناک حادثہ کوئی نہیں۔ بے سوچے انسان وہاں پہنچ جائے جہاں سوچنا وبال جان ہو۔ سوچنے کا وقت گزر جائے تو سوچنا ہی عذاب بن جاتا ہے۔ جو چیز کسی وقت مداوا ہو سکتی تھی اب وہی عذاب کی ایک صورت۔ حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل۔ کسی کو زبان ملے تو وہ ضرور ہم دُنیا والوں کو آکر بتائے۔ پر اس پردہ کا کھلنا خدا کو منظور ہو تو وہ مردے کو زبان ملنے پر ہی کیا موقوف؟ اس کی تو پھر ہزار صورتیں تھیں۔ یہ پردہ پڑا رہنا، جب تک کہ انسان زمین پر بستے ہیں، البتہ اس ذات کی اپنی ہی مشیئت ہے۔ یہ ’پردہ‘ ہی تو آزمائش ہے۔ مگر جہاں یہ آزمائش ہے وہاں یہ ہم کمزور گنہگار انسانوں کا سہارا بھی بنا ہے۔ اسی کی اوٹ تو ہے جو ہم ناتوانوں کی قصور واریوں کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ اسی کے دم سے یہ ممکن ہو پاتا ہے کہ عبادت کے یہ کچھ تھوڑے سے کام اور بندگی کی یہ محدود سی محنت اس انسان کو کفایت کر جائے۔ یہ ’پردہ‘ اٹھ جائے اور پھر کہیں اُس کی عبادت کرنی پڑے تو وہ عبادت بس یونہی اور اتنی سی تو نہ ہوگی! اُس سے ابھی جتنا ڈر کر رہا جا سکتا ہے ’پردہ‘ اٹھ جائے تو کب یہ آدمی کو کفایت کرنے والا ہے!؟ گناہوں پر بخشش مانگنے کی یہاں گنجائش اور آسائش ہے تو وہ اسی سبب سے تو ہے۔ یہ ’غیب‘ نہ رہے تو کیسی معصیت اور کیسی مغفرت .... اور کیسی مہلت؟؟؟!!
اُدھر اُس مہربان کو دیکھو۔ وہ خوش ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ مٹی کا یہ پتلا ’غیب‘ کی اِسی اوٹ میں اور مٹی کے اِسی فرش پر اُس کو کچھ سجدے کرسکے تو کرے۔ کوئی اُس کو پوجے تو یہاں چار دن اُس کو بن دیکھے ہی پوجے۔ اُس کو پانا چاہے تو اِس نفس کو ہی پاکیزگی دلائے، کہ دل کی آنکھ سے دیکھ سکے۔ نفس پہ میل چڑھنا اس آنکھ کی دھند ہے۔ یہ دھل جائے تو دل کی آنکھ خوب دیکھتی ہے۔ یہاں اُس کو دیکھا جا سکتا ہے تو اِسی دل کی آنکھ سے اور عقل کی بینائی سے۔ یہ اُس ذات کی اپنی ہی پسند ہے کہ جب تک ’دیکھنے‘ کا وقت نہیں آجاتا آدمی کوئی چار دن اُس کو اِسی طرح دیکھے۔ صحیفوں میں ہی اُس کا ذکر پا کر اپنی نگاہوں کو شاداب کرے۔ نبیوں سے ہی اُس کی حقیقت دریافت کرے اور ذوق یقین سے ہی اُس تک پہنچے۔ عقل سے ہی اُس تک رسائی پائے۔ کائنات سے ہی اُس کی عظمت کے دلائل، اُس کی وحدانیت کے شواہد اور اُس کے لائق بندگی ہونے کے ثبوت اکٹھے کرے۔ بن دیکھے ہی اُس سے ڈرے اور مقدور بھر اُس کا فرمانبردار رہے۔ جہاں کوتاہی ہو وہاں بخشش کا سوال کر لیا کرے!!!
البتہ یہ کہ آدمی اُس کو دیکھے تو تب جا کر ڈرے.... اُس کو سامنے ہی پائے تو تب پوجے .... یہ مادیت ہے۔ ایسا سجدہ کرانا دوستو اُس شان بے نیازی کے مالک کو آپ ہی اپنے لئے پسند نہیں۔ کوئی اِس انتظار میں بیٹھا ہے تو اپنی ذات کیلئے بدبختی سمیٹتا ہے۔ اِس سے بڑا خطرہ کبھی کسی نے مول نہ لیا ہوگا!

قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ (السجدة : 29)
”کہو! معاملہ کھلنے کے دن، کفر کرنے والوں کو اُن کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، اور نہ اُن کو کوئی مزید وقت دیا جائے گا“!
وہ اپنے لئے بہترین چیز پسند کرتا ہے۔ اس کو یہی پسند ہے کہ پردۂ غیب میں ہی وہ کسی کا مطلوب ہو تو ہو۔ بن دیکھے یہ وہ کسی کا مقصود ہو تو ہو۔ یہاں ایک امیر کبیر صاحبِ سطوت کو کب جھک جھک کر سلام نہیں ہوتے؟ ایک صاحبِ فضل پاس آئے کو کون نہ پوچھے گا!؟ پھر خالق اور مخلوق میں فرق ہی کیا ہوا؟! چڑھتے سورج کو تو یہاں سب سلام کرتے ہیں۔ یہی تقاضا خدا سے ہو، اس سے بڑھ کر دوستو جہالت کیا ہوگی؟!
سو کوئی بن دیکھے ہی اُس کی طلب کر سکے تو کرے۔ وہ اپنی پسند کا آپ مالک ہے۔ وہ تو دن سے بھی بڑھ کر رات کے سجدوں کو پذیرائی بخشتا ہے۔ اندھیری رات میں اور تنہائی کی خاموشی میں اور دل کی گہرائی سے انسان اُس کو آواز دے اور آہستگی سے پکارے تو وہ خوب سنتا ہے۔ مخلوق سے چھپ کر اُس کی تعظیم میں کوئی ایک آنسو گرے تو اُس کی نگاہ میں انسان کے ہاں پایا جانے والا یہ سب سے قیمتی موتی ہے۔ چشم کا اس کی محبت میں تر ہو جانا اس کو دنیا ومافیہا سے عزیز تر ہے۔ خوف اور امید کے بیچ عاجزی سے اٹھے ہوئے ہاتھ اُس کے ہاں سب سے بڑھ کر قدر پاتے ہیں۔ بن دیکھے اس کی چاہت ہو تو اس کا بدلہ وہ خلد کی نعمتوں سے تو جو دے گا سو دے گا .... کہ جانتا ہے انسان آخر انسان ہے اور انسان کی ضروریات فرشتوں کی ضروریات سے سدا مختلف رہیں گی خواہ وہ عالم دنیا ہو یا عالم آخرت .... سو یہ خلد کو نعمت تو اپنی جگہ مگر ’غیب‘ میں پوجا جانے کا صلہ وہ مہربان ’خود‘ ہی بن جاتا ہے۔ اس سے بڑا دوستو کیا انعام ہو سکتا ہے؟ اس مخلوق کی یہ قسمت! اس لطف کی دوستو کوئی حد نہیں۔ یہ بڑھتی ہی رہنے والی لذت ہے۔ یہ وہ لذت ہے جو قرآن میں ”مزید“ کے عنوان سے ذکر ہوئی ہے:
مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ. ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِِ. لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ. (ق: 33 ۔ 35)
”وہ جو بے دیکھے رحمن سے ڈرتا تھا، اور جو دلِ گرویدہ لئے ہوئے آیا ہے .. داخل ہو جاﺅ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کیلئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس ’مزید‘ بھی ہے“
٭٭٭٭٭



دوستو خدا کا لاکھ لاکھ شکر جس نے ہمیں یہ موقعہ دیا اور توفیق بھی کہ جیتے جی .... یہیں اسی زندگی میں اُس کا تعارف کر جائیں اور یہیں پر اُس سے آشنائی پائیں۔
اُس کو جاننے کا صاحبو بس یہی موقعہ ہے۔ موقعہ دوبارہ آنے کا تو خیر سوال ہی نہیں۔ بس یہ دیکھو موقعہ کب تلک رہتا ہے۔ اُس ذات سے آشنائی کا یہی وقت ہے، یا یوں کہیے اُس سے آگاہ ہونے کے وقت تو اور بہت آئیں گے مگر اُس سے آگاہ ہونے کا فائدہ بس اب ہے۔ دنیا کے کام دھندوں اور بکھیڑوں نبیڑوں کا بھی اگر یہی وقت ہے تو اُس کی جانب رخ کرنے کا بھی بس یہی موقعہ ہے! بات یہ ہے کہ کچھ بھی ’کرنے‘ کا یہی وقت ہے .... یہی تھوڑا سا وقت .... بلکہ کیا معلوم تھوڑا بھی نہ ہو۔ پھر تو راحت اور آرام کا وقت ہے اور یا پھر سدا پچھتانے کا۔ کیا اس ’سدا‘ کا مطلب ہم نے کبھی سوچا ہے؟ بھائیو یہ بہت ہی خوفناک لفظ ہے۔ ’ابد‘ یعنی ہمیشگی .... یہ بہت ہی امید افزا لفظ ہے اور بہت ہولناک بھی!!!
ہمیشہ کا آرام، یا ہمیشہ کا پچھتاوا .... کچھ کرنے کا وقت البتہ ابھی ہے!!! ویسے ہر انسان کچھ نہ کچھ واقعتا کر بھی رہا ہے۔ یہاں کوئی بھی فارغ نہیں، قطع نظر اس سے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ کوئی یہاں موتی اور پھول چنتا ہے۔ کوئی خاک چھانتا ہے۔ البتہ ’فارغ‘ یہاں کوئی نہیں۔ ہر کسی کو اپنا کام نمٹانا ہے، چاہے وہ کوئی فضول کام ہے یا کام کا کام۔ وقت ہے جو جا رہا ہے۔ اجل ہے جو آرہی ہے۔ بس حسرتیں رہیں گی۔ جو یہاں نمٹ نہ سکا انسان کا بس چلے تو وہ ساتھ اٹھا لے مگر ہر چیز کی کوئی خاص جگہ ہے۔ کسب کیلئے یہی دنیا ہے۔ نیک بختی یا بدبختی، کمائی کا یہی جہان ہے۔ ’کمانے‘ کا وقت محدود اور ’کھانے‘ کا وقت لامحدود! اگلا جہان واقعی بڑا عجیب ہے!
پس ہر شخص ہی یہاں کمائی کر رہا ہے۔ ’کمائی‘ کا تعین اصل بات ہے اور بہت کم لوگ درست طور پر یہ تعین کر پاتے ہیں، ورنہ ’کمائی‘ ہر شخص کرتا ہے۔ ’بے روزگار‘ کوئی نہیں۔ اِس دنیا کے حساب سے کوئی بے روزگار ہو تو ہو اگلے جہان کے حساب سے یہاں کوئی بے روزگار نہیں۔ ہر شحص یہاں برسر روزگار ہے! کمال یہ کہ اپنے روزگار کا تعین بھی وہ خود کرتا ہے۔ ہر آدمی ہی اپنی پسند اور ذوق اور معیار کا بہترین مظاہرہ کرنے کا یہاں خوب موقعہ پاتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ہر آدمی ہی اپنی پسند اور معیار اور ذوق کا مظاہرہ کرنے کے بعد یہاں سے جاتا ہے!!!

کوئی جب تک یہاں خدا کو اپنا آپ اور اپنی حیثیت دکھا نہیں لیتا، تب تک کہاں وہ دُنیا چھوڑتا ہے؟! اور خدا کو انسان کی حیثیت دیکھنے میں وقت ہی کب لگتا ہے؟! یہ ’موقعہ‘ تو، جو اِس کو اپنا آپ دکھانے کیلئے ملا، انسان پر محض اُس کی مہربانی ہے!
یہاں ہر آدمی ہی اپنا مدعا سنانے کی پوری مہلت پاتا ہے۔ ہر آدمی ہی خدا کو بتانے کیلئے ’کچھ‘ وقت پاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے تو کیا چاہتا ہے اور اگر وہ سرگرم ہو گا تو کس بات کیلئے اور سعی کرے گا تو کس چیز کی۔ یہ اُس کا عدل ہے: ہر آدمی عملاً خدا کو اپنی پسند بتائے۔ ہر آدمی زبانِ حال سے بولے اور کچھ برس یا کچھ عشرے مسلسل خدا کو اپنی پسند بتائے اور اپنا فیصلہ سنائے۔ اپنے اپنے ظرف کے بقدر ہر آدمی یہاں خداکو بتلاتا ہے کہ وہ کس قابل ہے۔ کس سعی کیلئے پیدا ہوا ہے اور وہ عدل اور رحمت کا مالک اِسے دے تو کیا دے!!!
سو بھائیو ہم یہاں آئے ہیں کہ اپنے ذوق کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کریں اور خدا سے وہ ہمیشگی کا جہان مانگیں جہاں اُس کا قرب اور اُس کی مجاورت ملتی ہو۔اور اپنی اِس طلب میں سچا ہونے کا مقدور بھر ثبوت دیں۔ وہ ملے تو سب کچھ کا ملنا آپ سے آپ یقینی ہے۔ اُس کو پانے کا یہی وقت ہے۔ بلکہ کچھ بھی پانے کا وقت اب ہے، کہ کچھ بھی کرنے کا موقع اب ہے۔ اپنے من کی مراد منہ پر لانے کا وقت اب ہے، جو چاہو مانگ لو۔ اپنی ترجیحات بتانے کا وقت یہی ہے، جو چاہو چن لو۔ اپنا ٹھکانہ بنانے کا یہی موقعہ ہے، جو چاہو اختیار کر لو۔ قسمت بنانے کو یہی جہاں پیدا ہوا، سنوار لو یا پھر بگاڑ لو۔ قابلیت کا کوئی جوہر ہے تو اس کو ابھی سامنے لاﺅ۔ ہمیشگی کے جہان میں جس گھر پر ہمت کرکے یہیں سے ہاتھ رکھ دو وہ تمہارا! پر یہ ہاتھ رکھنے کا وقت اب ہے پھر نہیں! بس یہ صلاحیت پا لو کہ اس جہان میں بیٹھو تو اُس جہان کے گھر پہ نظر ہو۔ اُس جہان کی طلب کرنے کو ہی تو یہ مختصر سا جہان پیدا ہوا! ابد کی تمنا زبان پر لانے کیلئے ہی تو پلک جھپک برابر یہ وقت ملا! وہ ذات ہمارے تصور سے بھی بڑھ کر فیاض اور مہربان ہے، اُس کی شرط بس اتنی ہے کہ آدمی ہمہ تن گوش ہو اور اپنے رخ کی ساری توجہ اُسی کی جانب پھیر دے۔ اِس کے بعد پھر اُس کو جو سناﺅ وہ سنتا ہے اور جو مانگو وہ دیتا ہے:
أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ  (البقرة: 186)
”میں جواب دیتا ہوں پکارنے والے کا، جب بھی وہ مجھے پکارے! پس چاہیے وہ میری سنیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، تاکہ بھلائی پائیں!!!“
دوستو یہاں چار دن انسان ___ آزادانہ ___ اپنی طلب بتانے اور اپنا مدعا سنانے ہی تو آتا ہے۔ یہ تو اِس کی سمجھ کا امتحان ہے۔ یہ اِس کے ذوق کا اختیار ہے۔ یہ اِس کی عقل کی آزمائش ہے۔ اِس کا ظرف دیکھنے کا بس یہی موقعہ ہے۔ اِس کے عزم کا بس یہیں پتہ چلنا ہے۔ یہی لمحہ تو ہے کہ آدمی دکھا دے وہ کس قابل ہے! یہ کل چار روز ہیں، تو اس کی رحمت ہے کہ امتحان دراز نہیں، مگر اپنے مطلوب اور مقصود کا تعین کرنے کا یہی وقت ہے۔ سوال کرنے کا یہی موقعہ ہے اور سوال میں سنجیدگی لانے کا بھی یہی وقت ہے۔ زہے نصیب کہ آدمی کا مطلوب وہ ذات ہو جو ملے تو سب کچھ ملتا ہے!
صاحبو! کوئی انسان بھی اپنے لئے بدبختی نہیں چاہتا، اِس میں کیا شک ہے، مگر بھول میں رہنا جیسے آدمی کی مجبوری ہو! اِس کا ستیاناس ہو، یوں سمجھو یہ بھول ہی بدبختی ہے۔ یہی کم بختی کا دوسرا نام ہے۔ یہ نہ ہو تو ہمیشہ ہمیشہ کی بدبختی سے بچنے کو کون ہے جو ہاتھ پیر نہ مارے؟ خوشی خوشی بربادی کی جانب آدمی اس بھول میں ہی تو بڑھتا ہے! غفلت سے خطرناک کوئی چیز نہیں۔ کچھ کرنا ہے تو ابھی کرنا ہے۔ اس ’ابھی‘ سے آدمی دستبردار ہوا نہیں اور اپنے کام سے گیا نہیں!
بھائیو! یہ لمحہ جو ہمیں ’ابھی‘ حاصل ہے اس کی قیمت کا اندازہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ ایک لمحہ آپ کی لاکھوں کروڑوں سالہ زندگی میں اتنا اہم کبھی نہ ہو گا جتنا کہ آج، اب، اِس وقت۔ آپ کو عین اِس لمحے وہ سب کچھ حاصل ہے جس کی ایک مردہ قیامت تک بلکہ قیامت کے بھی بعد ہمیشہ ہمیشہ تلک حسرت کرے۔ صاحبو! کیسی بڑی دولت اپنے پاس ہے جس کو اکثر لوگ روز خاک میں رولتے ہیں۔ ہاتھ پیر تو بھائیو ہر کسی کو مارنے ہیں۔ کوئی آج ہاتھ پیر مارتا ہے کوئی کل مارے گا! قبروں سے کون اٹھنے دے گا؟ زور لگانے کا وقت اب ہے جب ہاتھ پیر چلتے ہیں اور سوچ لینے کا فائدہ ہے۔ دوستو اپنا پورا زور ابھی جس بات پر لگنا ہے ___ جی ہاں ’پورا زور‘ اور ’ابھی‘ ___ وہ یہ کہ یہ ’بھول‘ ہی اپنی قبر نہ بن جائے۔ زندہ ہیں تو پھر جاگتے بھی رہیے!
مثل الذی یذکر ربه والذی لا یذکر ربه مثل الحیی والمیت
(البخاری)
”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا، ایسی ہے جیسے زندہ اور مردہ!!!“
بھول ہی بدبختی کا اصل سرا ہے۔ بس یہ نگاہ میں رہے۔ یہ ہرگز روپوش نہ ہونے پائے۔ اِس سے روز خدا کی پناہ مانگو۔ مروائے گی تو بس یہی مروائے گی۔ ہوش برقرار رہے تو انسان ضرور کچھ کر لیتا ہے۔ ہوش گیا تو سب کچھ گیا۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔ خطرے کی جڑ یہی ہے۔ بھول ہی اصل بربادی ہے۔ انسان کبھی اپنا بدخواہ نہیں ہوا، بس بھول سے مارا جاتا ہے۔ اصل آزمائش بس یہی ہے۔ دیکھتے جاگتے ہوئے بھلا کون مار کھاتا ہے۔ اتنا کم عقل ہرگز کوئی نہیں۔ عقلمندی تو اصل میں بس ہوش مندی ہے۔ سمجھو امتحان یہی ہے۔ ہوش میں ہر کوئی اپنا بھلا کرتا ہے۔ یہاں جو سویا بس وہ مرا۔ آنکھیں کھلی رکھنے والا خدا کے فضل سے ضرور راہ پائے گا۔
خیر کی طلب خدا نے ہر نفس میں رکھی ہے۔ البتہ خیر کو دیکھنا اور دیکھتے رہنا ضرورایک معنی رکھتا ہے۔ خیر کو ہر دم نگاہ میں رکھنا اور اس کیلئے باقاعدہ جفاکش رہنا یہ البتہ ایک محنت طلب کام ہے۔ اصل مقابلہ یہیں پر ہونا ہے۔ سب زور اسی پر لگنا ہے یہ بڑے ہی جان جوکھوں کا کام ہے۔ شیطان کا جادو آنکھوں پر ہی چلتا ہے۔ اس کی دوڑ بس یہیں تک ہے کہ وہ بندے کو ہوش میں نہ رہنے دے۔ یہی اس کا میدان ہے۔ وہ ’نشے‘ کے سب نسخے پاس رکھتا ہے۔ زن، زر، زمین، کھیل تماشہ، شور شرابہ، قبیلہ برادری، ضد، حسد، غضب، فخر، بڑائی، اقتدار .... آدمی کسی بھی ’قبر‘ میں دفن ہو سکتا ہے۔ کسی بھی گڑھے میں روپوش ہو سکتا ہے۔ ہاتھ پیر ایک جیتا اور جاگتا انسان مارتا ہے۔ آدمی بے حس وحرکت کچھ دیر پڑا رہے تو ’قبر‘ پوری جانے لگتی ہے۔ یہی زندہ درگور ہونا ہے۔ زندہ رہنے کیلئے بھائیو جاگنا بہت ضروری ہے۔ بے ہوشی موت ہی کی بہن ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونََ. وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لاَ يُقْصِرُونََ. وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِآيَةٍ قَالُواْ لَوْلاَ اجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يِوحَى إِلَيَّ مِن رَّبِّي هَـذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونََ. وَإِذَا قُرِىءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونََ. وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلاَ تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينََ. إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ.  (ال أعراف: 201 ۔ 206)
”جو لوگ تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں، جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو وہ حالتِ ذکر میں آجاتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔
”رہے ان کے بھائی بند تو وہ (شیطان) ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں۔ پھر وہ (ان کو بہکانے میں) کوئی بھی کمی نہیں چھوڑتے۔
”اور جب تم اُن کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی؟ کہہ دو کہ میں تو اُسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس آتی ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے رب کی جانب سے دانش و بصیرت ہے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کیلئے جو (اس پر) ایمان رکھیں۔
”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو؛ بہت امید ہے کہ تم پر رحم کردیا جائے۔
”اپنے رب کی یاد صبح شام کیا کر دل ہی دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ اور ان لوگوں میں نہ ہو جا جو نرے غافل ہیں۔
”یقینا جو ہستیاں تیرے رب کے پاس ہیں وہ اُس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتیں۔ بس اُس کی پاکی بیان کئے جاتی ہیں اور اُس کے آگے ہی جھکی رہتی ہیں“!
٭٭٭٭٭

پس دوستو خدا کی جانب بڑھنے کیلئے دو چیزوں کی ہر وقت ضرورت ہے: علم اور عزم۔ اُس ذات کو جاننا جو سعادت اور خوش بختی کا منبع ہے، علم کہلاتا ہے اور پھر اُس سے آشنائی پا کر اُس کی طلب کرنا اور اُس تک اُس کی مقرر کردہ راہ سے پہنچنے کا قصد کرنا، عزم کہلاتا ہے۔ اِن دونوں باتوں کو ہر دم تازہ کرنے اور ہر وقت پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہی ایک سالک کا، یعنی خدا کی جانب بڑھنے والے کا، اصل زاد اور اصل سرمایہ ہے۔ منزلت پانا اِسی کے دم سے ہے۔ عمل کا حسن اِسی سے آتا ہے۔ اجر کی مضاعفت اِسی کے بقدر ہوتی ہے۔ دانائی کا سب راز بس اِسی میں پوشیدہ ہے .... خدا کو جاننا اور خدا کو چاہنا، ہوش مندی بس یہی ہے۔
’ذکر‘ جس چیز کا نام ہے وہ اسی حالت کی بحالی ہے۔ ذکر ’وظائف‘ کا نام نہیں۔ دانے گننے سے ’تسبیح‘ کا کیا تعلق؟ اصل بات یہ ہے کہ آدمی ___ خدا کے کلام سے اور اس کے نبی کی زبان سے___ خدا کی صفات کا علم پائے۔ خدا سے آگاہ ہو۔ اُس کے مرتبہ اور مقام سے آشنائی پائے۔ بندگی پر اُس کا حق جانے۔ غیروں سے اِس حق کی نفی کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اُس ذات کے لائق جو بندگی ہے وہ کس حقیقت کا نام ہے۔ خدا کے مرتبہ اور مقام کو نگاہ میں رکھنا ہی علم ہے۔ پھر اُس کی چاہت کرنا، اُس کی چاہت کے تقاضے پورے کرنے پر دلجمعی پانا اور اُس کو خوش کرنے کی تدبیر کرنا اور اُس کی خفگی سے بچنے کیلئے پریشان رہنا .... یہ ہمت اور عزم کی بات ہے۔ ’علم‘ اور ’عزم‘ عبادت کی جان ہے۔ ’خدا کو جاننے‘ اور ’خدا کو چاہنے‘ کے معاملے میں ہر لمحہ انسان پر نئی حالت آتی ہے۔ یہ جب کمزور پڑے تو وہ بھول اور غفلت کا لمحہ ہوتا ہے۔ اس سے اصل حالت میں لوٹ آنا ’ذکر‘ کہلاتا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ.َ وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لاَ يُقْصِرُونَ. (الأعراف: 201 ۔ 202)
”جو لوگ تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں، جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو وہ حالتِ ذکر میں آجاتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں.. رہے ان کے بھائی بند تو وہ (شیطان) ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں۔ پھر وہ (ان کو بہکانے میں) کوئی بھی کمی نہیں چھوڑتے“
پس ’ذکر‘ ایک حقیقت کو بار بار دہرانا ہے۔ ’ذکر‘ ایک بہترین حالت کو ممکنہ حد تک بحال رکھنا ہے۔ مگر یہ ’بہترین حالت‘ جس چیز کا نام ہے وہ دراصل ’علم‘ اور ’عزم‘ سے ہی عبارت ہے۔ جو شخص پہلے اِس حقیقت سے واقف نہیں ہوتا، جو ”خدا کی جانب بڑھنے“ کا آغاز خدا کو ”جاننے“ سے نہیں کرتا اور توحیدِ بندگی کی صورت میں خدا کا باقاعدہ ’قصد کرنا‘ نہیں سیکھتا .... ’ذکر‘ میں دانے گننے یا ضربیں لگانے کی نوبت اسی پر آتی ہے۔ ذکر تو بس ’اصل حالت‘ کی بحالی ہے اور اصل حقیقت کا اعادہ۔ اس ’اصل حقیقت‘ اور ’اصل حالت‘ پر جس شخص کی ابھی محنت نہیں ہوئی وہ اعادہ کس بات کا کرے اور بحالیکس چیز کی!؟ ’ذکر‘ اس کیلئے بڑی حد تک ایک بے معنی لفظ ہے! ’اضافی تکلفات‘ اور رونق پیدا کرنے کے ’مصنوعی انتظامات‘ ایک بے معنیٰ کو ہی بامعنیٰ بنانے کیلئے عمل میں لائے جاتے ہیں!

بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے سفر کا آغاز ’علم‘ اور ’عزم‘ سے کرے، یعنی:
- خدا کو یوں جانے جیسا کہ انبیاءنے اُس کا تعارف کرایا۔
- خدا کی یوں طلب کرے جس طرح انبیاءنے اُس کی طلب کرنا انسانوںکو سکھایا۔
اسی حالت کو برقرار رکھنا پھر ’ذکر‘ کہلائے گا۔

٭٭٭٭

بھائیو اور بہنو!
کامیاب شخص وہی ہے جو معاملے کو ہاتھ ڈالنے سے پہلے معاملے کی سمجھ پالے۔ جو کام کو ’نمٹانے‘ سے پہلے اس کا سرا پالے۔ خدا تک پہنچنے کا راز بھائیو ’کثرتِ عمل‘ نہیں بلکہ حسنِ عمل ہے:
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير.ٌ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُور.  (الملک: 1۔ 2)
”نہایت بزرگ وبرتر ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھنا اُس کی صفت۔ جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ کون ہے جو تم میں عمدہ تر عمل کرنے والا ہے“۔
٭٭٭٭٭


پس ہر نعمت سے بڑی نعمت بھائیو ہو سکتی ہے تو وہ یہی کہ آدمی خدا سے اسی دُنیا میں واقف ہو کر جائے۔ بن دیکھے کوئی دن اُس کو یہیں پوجے اور یہیں چاہے۔ اُس کا عذاب دیکھنے سے پہلے ہی اُس سے ڈرے۔ ایسی پوجا جو ’غیب‘ میں ہی آدمی کرلے، ایسی چاہت اور ایسا خوف جو آدمی اس ’غیب کے فاصلے‘ سے ہی کر سکے اور ایسی تعظیم جو بن دیکھے ہی آدمی اس کیلئے خاص کر دے .... دیکھی جانے والی ہر چیز پر اس ان دیکھی حقیقت کو ہی ترجیح دے دے اور اپنا تمام تر رخ یہیں اِسی دنیا میں ہی اُس کی جانب پھیر دے .... اس کیفیت سے کیا گیا عمل تھوڑا بھی بہت ہو جاتا ہے۔ زیادہ فاصلہ بہت تھوڑی محنت سے سمٹ جاتا ہے۔ آدمی کا بس محدود ہے اور وہ ذات اپنی مخلوق کے اِس ضعف اور اِس محدودیت کو بہرحال جانتی ہے۔
اُس کو ’عبادت‘ کے ڈھیر نہیں لگوانے۔ مگر اِس دل میں جگہ پانا وہ اپنا حق جانتا ہے۔ یہ دل اُس کو پیش کر دیا جائے تو بس وہ خوش ہے۔ کوئی یہ پیش کرنے پر تیار نہیں تو باقی سب ’رشوت‘ ہے۔ رشوت سفارش کا اُس کے ہاں کیا کام!؟ اُس کا چہرہ پانا ممکن ہے تو بس اسی طرح کہ آدمی اِس کا مول دینے پر کم از کم ابتدائی طور پر تیار ہو، پھر کسی کی آزمائش سخت ہو یا کسی کی نرم، یہ فیصلہ کرنا اُس کا کام ہے۔ بخشش اور استغفار کی راہ بھی کھلی ہے۔ مگر ابتداءً یہی ضروری ہے۔ اُس کا رخ پانے کیلئے اپنا تمام تر رخ اُس کی جانب پھیر دینا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کے پاس کسی کو پیش کرنے کیلئے بہترین چیز اِس کا دل ہی ہے۔ اس سے کم پر اُس کو راضی کرنے کا خیال بس خود فریبی ہے۔ یہ دل کی دُنیا اُس کو سونپ دی جائے تو تب ہی قصور معاف ہوتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی توفیق ملتی ہے۔ غلطیوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور عزیمت کی راہ کھلتی ہے۔
مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِيب. ٍٍ ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ. لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ.  (ق: 33 ۔ 35)
”وہ جو بے دیکھے رحمن سے ڈرتا تھا، اور جو دلِ گرویدہ لئے ہوئے آیا ہے .... داخل ہو جاﺅ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کیلئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس ’مزید‘ بھی ہے“۔
وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ.َ  يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ. َ ِإِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ. (الشعراء: 87۔ 89)
”اور مجھے اس دن رسوا نہ کریو جب سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا نہ اولاد۔ بجز اس کے کہ کوئی شحص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو“۔
ولیِ نعمت کی جانب سے بندۂ مخلوق سے یہ مطالبہ کہ یہ، دل کی دُنیا اُسی کی فرماں روائی کیلئے بخوشی پیش کر دے اور یہ کہ انسان اپنی اس محدود سی قلمرو میں سب سے بڑے مرتبے پر ___ اپنے اختیار سے ___ خالق کو ہی فائز کرے، کیا کوئی غیر حقیقی یا غیر واقعی مطالبہ ہے؟ یہ تو ایک ایسا مطالبہ ہے جو ایک غریب سے بھی کیا جا سکتا ہے اور امیر سے بھی۔ مرد سے بھی اور عورت سے بھی۔ راعی سے بھی اور رعایا سے بھی۔ ہر ذی ہوش سے یہ چیز طلب کی جا سکتی ہے۔ کوئی کچھ پاس رکھے نہ رکھے، دل ضرور پاس رکھتا ہے۔ خدا بھی اس سے یہی مانگتا ہے۔ آدمی چاہے تو دینے سے انکار کردے۔ حتی کہ صاف جواب دے دے۔ اور ویسے کتنے ہیں جو اپنی جان کے مالک کو روز ہی ’صاف جواب‘ دیتے ہیں۔ مگر اُس کی عظمت اور اس کا حلم دیکھئے۔ وہ چیز طلب کرتا ہے اور آزادی دیتا ہے کہ انسان چاہے تو اِس کو اُس ارفع واعلیٰ ذات کیلئے پیش کر دے اور چاہے تو کسی اور طلبگار کے سپرد کر آئے! دل کی یہ دُنیا وہ کسی عورت کو دے آئے، وہ کسی قبیلے برادری یا ملک کے نام کر دے یا روپے پیسے کی تحویل میں دے دے .... چار دن یہ اِس کا پورا مالک ہے یہ جو چاہے اس کا تصرف کرے۔ چاہے تو گوشت ماس ہڈیوں اور انتڑیوں کی بنی ہوئی کسی عاجز مخلوق کو دے آئے، جس کے ’حسن‘ کے آگے یا جس کے ’اقتدار‘ کے آگے اِس کو تاب لے آنا دوبھر ہے! چاہے تو مٹی اور گارے کے نام کر دے اور چاہے تو سونے چاندی اور لوہے پیتل ایسی ’کارآمد‘ دھاتوں کی ہی اس پر ملکیت تسلیم کر لے .... خدا اِس پر زبردستی نہ کرے گا کہ یہ چیز بس یہ اُسی کو دے۔ خدا کو پسند گو یہی ہے کہ یہ چیز بس یہ اُسی کو دے۔ چیز زبردستی لی تو کیا لی؟! یہ تو بن دیکھے اور خوشی خوشی ہی پیش کر دی جانے والی چیز ہے! تھوڑی سی عبادت پر خلد کی نعمت اور خداوند کی قربت یارو آخر کسی چیز کا تو ”مول‘ ہونا چاہیے!
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ. ٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ.  (القمر: 54۔ 55)
”بچ بچ کر رہنے والے تو پھر باغوں اور نہروں ہی میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ۔ بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب“
٭٭٭٭٭

انسان کا خدا کو اپنا دل سونپنا یا خدا کو دل میں بسانا کیا مفہوم رکھتا ہے؟
صاحبو یہ شاعری کی محفل نہیں۔ ہماری بحث حقائق سے ہے اور وہ بھی جہان کے برگزیدہ ترین حقائق سے۔ خدا کا دل میں آنا دراصل خدا کی صفات سے آگاہی پانا ہے۔ انسان کا خدا کو اپنا دل سونپ دینا خدا کی بندگی اختیار کرنا ہے۔ تنہا خدا کو ہی ___ عبادت اور پرستش اور فرمانبرداری کی راہ سے ___ اپنا مقصود بنانا ہے۔ خدا کی چاہت اور خدا کا خوف دل میں بسانا ہے۔ خدا کا مرتبہ اور مقام متعین کرنا ہے اور خدا کی خوشنودی کو اپنا ہمہ وقتی مسئلہ بنانا ہے۔
بات یہ ہے کہ ’خدا‘ اور بھی بہت سے ادیان اور بہت سے مذاہب کا ایک بڑا موضوع ہے۔ خدا کو دل میں بسانے کی بات اور بھی بہت سے مذاہب کرتے ہیں ۔ مگر وہ ’خدا‘ کے نام سے جس چیز کو دل میں بساتے ہیں وہ بڑی حد تک ان کے تخیلات کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ مگر خدا کسی کا تخیل نہیں۔ وہ ایک حقیقت ہے۔ بلکہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ یہ ایک متعین حقیقت ہے۔ ازل سے ہے۔ ابد تک ہے۔ کسی کا تخیل اس کو تبدیل کیسے کر سکتا ہے؟ کسی کا تخیل اس کا تعین ہی کیونکر کر سکتا ہے؟ وہ حقیقت اپنی جگہ ہے۔ کسی کا تخیل اس کی حقیقت جاننے سے کفایت ہی کیونکر کر سکتا ہے؟ تخیل کا حضرات وہاں کیا کام؟ اندازوں کا وہاں کیا گزر؟ اندازوں سے اس کوپایا جا سکتا اور محض جذبات یا نیک نیتی سے اُس تک پہنچا جا سکتا تو پھر لوگوں کے اندازے اُس کی بابت مختلف اور جدا کیوں ہوتے؟ وہ برگزیدہ حقیقت اگر تخیلات کے اندر سما سکتی تو مختلف ذہنوں میں مختلف بلکہ متعارض روپ کیوں دھارتی؟
یہ محض اِن کے اوہام ہیں۔ پراگندہ خیالات ہیں۔ فلسفے ہوں یا مذہب۔ جدید ہوں یا قدیم۔ خیالات یا فلسفے یا ڈھکوسلے ایک متعین حقیقت کو جاننے سے کفایت کیونکرکر سکتے ہیں؟ اور پھر یہ ہر آدمی اپنا الگ خیال، اپنا ایک نیا فلسفہ اور ایک علیحدہ ڈھکوسلہ کیوں چھوڑتا ہے؟ جتنے منہ اتنی باتیں۔ جتنے ذہن اتنے اندازے۔ وہ پاک ہے اِس سے۔ کہیں بلند ہے اِس سے۔ وہ اپنی حقیقت جس قدر انسان کو بتائی جانا ضروری ہو آپ بتاتا ہے اور اس مقصد کیلئے زمین پر کتابیں اتارتا اور رسول بھیجتا ہے۔ حق وہ ہے جو وہ اپنے بارے میں خود کہہ دے۔ یوں ایک موحد، ایک انبیاءکے پیروکار کے دل میں خدا کا اپنی صفات کے ساتھ آنا ایک بہت ہی واضح اور متعین اور پرلطف حقیقت ہے۔ اس میں اور دوسروں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ حقیقت اور وہم میں۔
انسان کا خدا کی بابت ’اندازے‘ سے بات کرنا صاحبو بڑی جرأت ہے۔ وہ انسان جس کی عقل کو صرف اتنا جاننے کو کئی ہزار سال درکار ہوئے کہ جس زمین پر یہ کھڑا ہے اِس کی وہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول شکل ہے .... جس انسان پر یہ عقدہ کھلنے کو بیسیوں صدیاں لگیں کہ اِس کی یہ دھرتی ساکن نہیں بلکہ متحرک ہے .... سو یہ انسان جو اپنے پیروں تلے کی اس دھرتی پہ نہ جھانک سکا.. یہ ناچیز خدا کی ذات پر تخیلات کی کمند ڈالے اور توقع کرے کہ اندازوں اور ٹامک ٹوئیوں سے یہ خدا کی حقیقت کو پا لے گا؟ اس سے بڑی جہالت اور اس سے بڑھ کر ظلم حضرات کیا ہو سکتا ہے؟
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ. ٍ ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ. ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيد. (الحج: 8 ۔ 10)
”اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کے بارے میں بحث کرتا ہے بغیر کسی علم کے اور بغیر کسی ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے۔ (تکبر سے) گردن اکڑائے ہوئے، تاکہ لوگوں کو راہ خدا سے بھٹکائے، اس کےلئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلنے کا عذاب چکھائیں گے.. (اے سرکش!) یہ اس کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں “
بھائیو خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے ہمیں دل کی اس ویرانی اور عقل کی اس سرگردانی سے بچا لیا۔ اس سے بڑھ کر بیچارگی دوستو کیا ہو سکتی ہے کہ اس بھری دُنیا میں کسی کو خدا کا پتہ نہ ملے!؟ نبی کی بعثت بھائیو کوئی چھوٹا انعام تو نہیں! نبی کا ورثہ محفوظ ہونا کوئی معمولی بات تو نہیں! کیا اب بھی ہم میں اور دُنیا میں کوئی فرق نہ ہو!؟
وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لله وَهُوَ مُحْسِنٌ واتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَاتَّخَذَ اللّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا.ً  وَللّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَكَانَ اللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطًا . (النساء: 125۔ 126)
”اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہو سکتا ہے جس نے اللہ کو اپنا رخ سونپ دیا اور وہ (اپنے عمل میں) حسن پیدا کر نے والا ہو اور یکسو ہو کر ابراہیم ؑکی ملت کا پیروکار بن گیا ہو۔ ابراہیم ؑ جسے خدا نے اپنا دوست بنا لیا تھا۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے“۔
رہا یہ کہ آدمی خدا کا پتہ تو پاس رکھتا ہو مگر خدا کیلئے دل میں جگہ ہی کم رکھتا ہو۔ کسی فانی چیز کی طلب نے دل میں خدا کی طلب کیلئے جگہ ہی باقی نہ رہنے دی ہو یا بہت کم جگہ چھوڑی ہو .... تو دریا کنارے پیاس سے مرنا بھائیو یہی ہے۔ اس امت میں یوں مرنے والے بھی نہ جانے کتنے ہونگے۔ خدا اپنی عافیت میں رکھے۔
بہرحال نہ علم اور آگہی کے بغیر کوئی چارہ ہے اور نہ طلب اور عزم کے بغیر۔

پس ایک مومن موحد جب خدا کو دل میں بٹھانے اور اس کو اپنا چہرہ اور اپنا رخ سونپ دینے کی بات کرے تو وہ کوئی شاعرانہ یا فلسفیانہ یا متصوفانہ بات نہیں ہوتی۔ یہ امر تو صریح طور پر ’علم‘ کا متقاضی ہے اور ’اخلاص‘ (قصد) کا۔ رہا ’علم‘ تو وہ موحد کے سوا بھلا کس کے پاس ہے؟
خدا کون اور کیا ہستی ہے؟ یہ خدا ہی بتائے تو بتائے۔ یہ کسی کے ’بوجھنے‘ کی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاءکے سوا خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی علم کا انبیاءسے ثبوت ہونا اور اس کا درست طور پر روایت ہونا اس کے ’علم‘ ہونے کیلئے بنیادی شرط ٹھہری۔ بلکہ ’علم‘ کی اس شرط کا کسی وقت پورا نہ ہونا دُنیا کے اندر ایک نئی نبوت کا وجہ جواز بن جاتا رہا۔ خدا کی حقیقت واقعتا اسی قدر برگزیدہ ہے۔ زہے نصیب، خدا کی بابت ’علم‘ رکھنے کا یہ شرف اہل اسلام کو اور ان میں سے بھی بدرجہ اتم صرف اہلسنت کو حاصل ہوا۔ دوستو کرۂ ارض کا یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اپنے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ یہ خدا کی دین ہے، فخر نہیں۔ زمین پر آج ہم ہی وہ گروہ ہیں جو خدا کو واقعتا جانتے ہیں یا یوں کہیے جو خدا کو جان سکتے ہیں!
خدا سے آگاہ قوم .... سب سے روشن، ذہن اور عالی دماغ دُنیا میں کسی کو ہونا چاہیے تو دوستو وہ ہم ہیں۔ مگر کیا عملاً ایسا ہے؟؟؟ اگر نہیں تو پھر یہ تعین کرنے میں آخر دیر کیوں کہ اپنے ہاں یہ اندھیرا کہاں سے آتا ہے؟
دوستو دُنیا میں ایک ہمارے ہی پاس نبوت کے وہ نگینے محفوظ ہوئے جو کرۂ ارض کی آج اور ہمیشہ ہمیشہ تک سب سے بڑی دولت ہے۔ خدا اپنی ذات کی بابت یا اپنی پسند وناپسند کی بابت یا اپنی جزا وسزا کی بابت خود ہی جو بتائے سو بتائے اور جب وہ بتائے تو ہم کان لگا کر سنیں اور اس کے ایک ایک لفظ کو ذہن پر نہیں دل پر نقش کریں (بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ(1)) ہر وہ بات جس سے وہ خاموش رہے وہاں اُس کی بابت ایک لفظ تک اپنے پاس سے بولنا ہم سب سے بڑا جرم سمجھیں .... ادب، تعظیم، تسلیم اور خدا کے مرتبہ کا پاس اس سے بڑھ کر بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ خدا کے ادب اور تعظیم کا یہ وہ طریقہ ہے جو ہمیں ہمارے نبی سکھا گئے اور جس کو ہمارے سلف ہمارے لئے محفوظ کر گئے۔ اس سے بڑھ کر بھائیو خدا شناسی کیا ہو سکتی ہے؟
سو اس امت کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہوا کہ یہ خدا شناس امت ہے۔ خدا کی وہ حقیقت جو انسان سمجھ سکتا ہے اسی کے پاس محفوظ ہے۔ پس یہ کہنا غلط نہیں کہ خدا انہی کے دل میں بس سکتا ہے۔ خدا کو اپنا آپ پیش کرنا انہی کے طریقے پر ہو سکتا ہے۔ ’خدا‘ کوئی وہم نہ ہو بلکہ ایک یقینی حقیقت ہو، یہ اِسی دین کے اندر ممکن ہے۔ سو کس قدر شکر، کس قدر احسان مندی اور کتنی قدر دانی ہم پر اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے، کیا کبھی بھائیو ہم نے اس پر سوچا بھی ہے؟
اپنی ہستی کی یہ جہت خود ہم پر ہی واضح نہ ہو، اس سے بڑی محرومی دوستو کیا ہو سکتی ہے؟ سچ ہے علم کے بغیر شکر بھی ممکن نہیں!!! بلکہ علم ہی تو شکر مندی ہے!!!

٭٭٭٭


اب ہم امام ابن القیمؒ کے کچھ اقتباس پڑھیں گے:
”اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کو جب تقاضا ہوا کہ آدم کو اپنی آئندہ نسلوں سمیت جنت سے نکال دیا جائے تو اس نے ان کو اس سے بھی بہتر چیز عطا فرما دی۔ یہ اس کا وہ سچا وعدہ ہے جس کے سبب سے بنی آدم (صرف جنت تک نہیں) بلکہ خود اسی تک پہنچ جائیں۔ اپنے تک پہنچنے کا اس نے پوری طرح راستہ واضح فرما دیا کہ جو اس پر چل پڑے وہ ضرور مراد پائے اور ہدایت بھی۔ البتہ جو اس سے منہ موڑے تو وہ ضرور ہی بدبخت ٹھہرے اور گمراہی میں رہے۔
اب جب خدا کے اس وعدے کو پانے اور اس سیدھے راستے پر چلنے کا معاملہ یوں رکھا گیا ہے کہ اس تک رسائی پانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے علم اور ارادہ۔ ارادہ (عزم) اس تک رسائی کیلئے دروازہ ہے اور علم اس در کی کنجی۔ اور یہ دروازہ کھلنا اس کنجی کے پائے جانے پر ہی موقوف ہے۔ پس ہر انسان کو مرتبۂ کمال پانے کیلئے ان دو باتوں ہی کی اشد ضرورت ہے: انسان کے اندر ہمت اور عزم ہو جو اس کو کھڑا کردے اور اس راہ میں آگے بڑھائے اور پھر علم ہو جو اس کو راہ دکھائے اور سارا راستہ اس کو درست چلائے۔
فلاح اور سعادت و نیک بختی کا کوئی مرتبہ آدمی کے ہاتھ سے جب بھی چھوٹتا ہے تو وہ انہی دو باتوں میں کچھ کمی رہ جانے کے باعث چھوٹتا ہے۔ یا پھر ان میں سے کسی ایک میں کہیں کوئی کوتاہی رہی ہوتی ہے۔ یعنی یا تو وہ سعادت ونیک بختی کا علم نہ رکھتا ہوگا، سو ایسا آدمی راستے کا سراغ ہی نہ پائے گا.. اور یا پھر نیک بختی کی راہ تو جانتا ہوگا مگر اس کیلئے اٹھ کھڑا ہونے اور اپنی قسمت بنانے کیلئے دوڑ پڑنے پر آمادہ نہ ہو سکا ہوگا....
یہ دو ہی وہ رکاوٹیں ہیں جنکے سبب آدمی نفس کے کیچڑ میں لت پت موت کے انتظار میں پڑا رہتا ہے اور کمال پانے کی اِس کو قدرت سے جو صلاحیت ودیعت ہوئی اس کو کوڑا بنا رہنے دیتا ہے۔ ایسا شحص خود کو اعلیٰ مراتب کے حصول سے یکسر غافل رکھتے ہوئے نفس کو دنیا میں بس چرا پھرا لانے پر ہی اکتفا کرتا ہے۔ نکھٹوﺅں کے ساتھ نکھٹو۔ بے طلب۔ بے ہمت۔ سست اور مردہ دل۔ نجانے کیا کچھ اس کے ساتھ ہونے کو ہے۔ گھڑیاں گنی جا رہی ہیں۔ پر یہ جاہل بے علم ’آرام‘ کرتا ہے۔ سمجھتا ہے یہاں وقت کٹائی کرنے آیا ہے! اُدھر دوسرا آدمی جو راستے کا سراغ پا گیا ہے اور ذوقِ طلب بھی خوب رکھتا ہے اس دنیا میں آتا ہے تو بس آستینیں چڑھا لیتا ہے۔ نگاہ ہر وقت منزل پر۔ فکر ہر وقت کام نمٹانے کی۔ کوئی ساتھ ہے یا نہیں یہ برابر چلتا ہے۔ جان لڑا کر علم حاصل کرتا ہے۔ محنت سے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ دلجمعی سے اس پر استقامت اختیار کرتا ہے۔ سب کچھ پاتا ہے مگر خدا سے کم کسی چیز پر قانع نہیں۔ خدا اور رسول کی جانب ہر دم عازم سفر۔ دل لگتا ہے تو بس خدا ہی کے ساتھ۔ دوست رفیق اس کو کہاں ملیں گے کوئی ہو گا تو بس رفیق کار ہوگا جو اسی راستے میں پایا جائے جو خدا کی جانب بڑھتا ہے!
چونکہ عزم وارادہ کے اندر اصل دیکھا جانے والا کمال یہ ہے کہ انسان کے مقصود ومطلوب ہی میں کوئی کمال ہو جس کاکہ عزم اور ارادہ کیا گیا.. اور علم ودانش میں کوئی شرف اور اعزاز ہو سکتا ہے تو یہ کہ یہ علم ودانش جس حقیقت کا سراغ پائے خود وہ حقیقت ہی نہایت شرف اور اعزاز والی ہو....
جب ایسا ہے تو پھر اس انسان کی سعادت ونیک بختی کے کیا کہنے اور اس انسان کے زندہ وپائندہ ہو جانے میں کیا شک جس کا عزم وارادہ اس ذات اور اس مقصود سے وابستہ ہو جس کو کوئی آنچ ہے اور نہ تغیر! جس کی ہمت اور طلب اس ذات کی جانب عازم سفر ہے جو ہمیشگی کا مالک ہے.. الح ¸ الذ ¸ لا یموت۔ وہ ذات جس کی جانب صرف ’علم‘ کا راستہ جاتا ہے.. اس علم کا راستہ جو اس کے بندے، اس کے رسول، اس کے خلیل اور اس کے چنیدہ نبی اپنے پیچھے نسل در نسل چھوڑ گئے .... اس نبی کا چھوڑا ہوا علم جس کو خدا کے طلبگاروں کا ہادی اور راہ نما بنایا گیا .... جس کو خدا اور مخلوق کے مابین واسطہ بنا دیا گیا اور جو خدا کے اپنے ہی حکم سے لوگوں کو سلامتی کے گھر کی جانب دعوت دینے پر مامور ہوا۔ یہ نبی ہی اس راستے کا نشان ہے۔ خدا اس بات سے انکاری ہے کہ اس تک پہنچنے کا راستہ سوائے محمد کے کہیں اور سے گزرے۔ در کھلے گا تو صرف محمد کے راستے پر۔ خدا انکاری ہے اس بات سے کہ وہ کسی محنت یا سعی کو قبول کرے سوائے اس سعی کے جو محمد کے راستے پہ شروع ہوتی ہو اور اسی پر ختم“۔
(مفتاح دارالسعادة ومنشور ولایة العلم والارادة 1:59)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
”خوب جان لو کہ خدا کی جانب بڑھنے کی منزلیں بدن سے بھی بڑھ کر دل اور ہمت کے ساتھ سر ہوتی ہیں۔ اور تقویٰ بھی درحقیقت دل کا تقوی ہے نہ کہ محض اعضاءکا۔ اس کا اپنا ارشاد ہے:
ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ.  (الحج : 32)
”یہ ہے اصل معاملہ۔ اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے“۔
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ.  (الحج: 37)
”نہ ان (قربانی کے جانوروں) کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، البتہ اسے تمہارے (ہاں پایا جانے والا) تقویٰ ضرور پہنچتا ہے“۔
خود رسول اللہ نے بھی یہی فرمایا التقوی ھٰھُنا کہ ”تقویٰ بس یہاں ہے“ جبکہ آپ اپنے سینے کی جانب اشارہ فرما رہے تھے۔
پس ایک ہوشمند شخص راستے کی مسافتیں طے کرنے کیلئے جو تدبیر کرتا ہے وہ یہ کہ اپنی عزیمت ہی کو مہمیز دے۔ ہمت جوان رکھے۔ اپنے مقصود کا پورے اخلاص اور تجرد کے ساتھ تعین کرتا رہے اور نیت میں زیادہ سے زیادہ نکھار پیدا کرے اور پھر اس کے ساتھ مقدور بھر عمل بھی کرے۔ اس تدبیر کو بروئے کار لا کر یہ ہوشمند شخص تھوڑا عمل کر کر بھی اس شخص کی نسبت کہیں زیادہ مسافت طے کر جاتا ہے اور جو کہ اس گر کے استعمال سے عاجز ہے اور جو کہ تھکتا زیادہ ہے مگر اس کی مسافت کم طے ہوتی ہے۔ عزیمت اور طلب جب پائی جائے تو خدا کی جانب بڑھنا مشقت نہیں رہتا۔ یہی چیز اس سفر کو خوشگوار کر دیتی ہے۔ خدا کی جانب بڑھنے میں سبقت لے جانا .... معبود کی جانب پیش قدمی کا خوب سے خوب تر ہونا بس ’ہمت‘ پر ہی تو منحصر ہے، یعنی انسان کی رغبت صادق ہو اور عزیمت جوان ہو۔ خدا کی جانب بڑھنا .... یہ ایک ایسی راہ ہے کہ ایک جوان ہمت اور صاحب عزیمت شخص راستے کی کسی منزل پر استراحت کرتے ہوئے بھی اس شخص پہ سبقت پاتا ہے جو ذوق طلب اور مقصد وعزیمت میں پیچھے رہ گیا ہو چاہے وہ چلتا اس سے کہیں زیادہ کیوں نہ ہو۔ چلتا دوسرا زیادہ ہے پہنچتا یہ پہلے ہے! ....
عزم وارادہ کی کمزوری اور طلب کی بے حسی دراصل دل کا ضعف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دل میں زندگی کی رمق بہت کم ہے۔ دل میں زندگی کا احساس جتنا زیادہ ہوگا ہمت اتنی ہی جوان ہوگی۔ ارادہ وعزم اور محبت وطلب ایسے ہی دل کا عمل ہے۔ دراصل ارادہ وقصد اور عزم وطلب کا انحصار ہے ہی اس بات پر کہ آپ جس چیز یا جس ذات کو محبوب رکھتے ہیں آپ کا وہ محبوب یا مطلوب آپ کے شعور کو کس حد تک مشغول رکھ سکتا ہے اور آپ اس کو محسوس کرنے میں کس حد تک کامیاب ہیں اور یہ کہ کسی رکاوٹ کو آپ کے اور آپ کے مطلوب کے مابین حائل ہونے میں کس قدر آسانی یا کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص ارادہ وعزم رکھنے سے ہی بے بس ہے یا ذوق طلب ہی سے بیگانہ ہے تو اس کا سبب یا تو یہ ہوگا کہ اس میں محسوس کرنے کی صلاحیت ہی مردنی ہے اور دل میں مراد تک جنم نہیں لے پاتی، جس کو کہ شعور کا فقدان کہا جائے گا .... اور یا پھر اس کا سبب یہ ہوگا کہ دل کو کوئی ایسا روگ لگا ہے کہ دل میں امنگ پیدا ہوتی تو ہے مگر ساتھ ہی دم توڑ جاتی ہے .... جس کو کہ ہمت کا فقدان کہا جائے گا۔ پس یہ دونوں ہی چیزیں آدمی کی ضرورت ہیں: قوت شعور بھی اور قوت ارادہ بھی۔ اس کے ہونے سے دل کو زندگی ملتی ہے اور اس کا فقدان ہو تو دل میں موت کی آہٹ سنی جانے لگتی ہے .... “
(تہذیب مدارج السالکین: 2 : 945)
”انسان کو مرتبۂ کمال دو باتوں سے حاصل ہوتا ہے:
- یہ کہ وہ حق کو باطل سے جدا کرکے دیکھ سکے، اور یوں حق کی معرفت پائے۔
- یہ کہ وہ حق کو باطل پہ ترجیح دینے کی ہمت رکھے۔
مخلوق جتنی ہے کسی کا مرتبہ خدا کے ہاں بلند ہے تو کسی کا پست .... تو اس کا سبب یہی دو بنیادیں ہیں۔ جتنا کوئی ان دو باتوں میں بلند ہو لے گا اتنا ہی وہ خدا کے ہاں بلند ہے اور جتنا کوئی ان دو باتوں میں پست ہوا اتنا ہی وہ خدا کے ہاں پست ہے۔ یہی دو باتیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ انبیا خدا کے کلام میں سراہے گئے ہیں:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ. (ص : 45)
”اور ہمارے بندوں ابراہیم ؑاور اسحاق ؑاور یعقوب ؑکا ذکر کرو۔ بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے“۔
یہ انبیاءجو أولی الأیدی ہیں یعنی زور بازو رکھتے ہیں اور پھر أولی الابصار ہیں یعنی زور نگاہ کے مالک ہیں۔ پس مرتبۂ کمال انہی دو باتوں میں پوشیدہ ہے: زورِ بازو اور زورِ نگاہ!!!
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاءکا جو وصف بیان کیا وہ یہی ہے کہ حق کے ادراک میں یہ کمال کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر اس حق پر عمل کر گزرنے میں بلا کی ہمت۔ پس لوگوں کی اس بنیاد پر جو چار اقسام بنتی ہیں ان میں سب سے اعلیٰ وبرگزیدہ قسم ایسے ہی انسانوں کی ہے جو ان دو خوبیوں میں کمال پیدا کرلیں۔
رہی دوسری قسم تو وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یعنی ایسا آدمی جو دین کی حقیقت سے بے بصیرت ہو اور حق پر عمل پیرا ہونے کی ہمت سے تہی دامن۔ مخلوق میں اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ یہی ہیں وہ لوگ جو زمین پر بار ہیں اور جن کو دیکھنا آنکھ کیلئے زحمت ہے۔ خوامخواہ شہروں میں اژدہام کرتے ہیں۔ بستیاں ہیں کہ ان کی کثرت کے سبب تنگ اور گنجان پڑتی ہیں۔ دُنیا میں ان کے وجود کے باعث سوائے اس کے کہ روٹی مہنگی ہو اور اناج کا اجاڑا ہو اور دُنیا کو اِن کے یہاں پائے جانے کا تاوان ہی تاوان اٹھانا پڑے، دنیا کو اور کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا یہاں ہونے کا فائدہ بہت کم ہے اور نقصان بہت زیادہ!
تیسری قسم: وہ لوگ ہیں جو حق کی بصیرت تو رکھتے ہیں اور جن کو ہدایت سے آگہی بھی نصیب ہوئی مگر ہمت کو ضعف لاحق ہے۔ وہ قوت حاصل نہیں کہ جس بات کو حق سمجھیں پھر اس کو کر گزریں اور اس کے داعی بن کر کھڑے ہوں۔ یہ ایک مومنِ ضعیف کا حال ہے جبکہ ایک طاقتور مومن اس سے بہتر ہے اور خدا کو اس کی نسبت عزیز تر۔
چوتھی قسم: وہ لوگ ہیں جو قوت وہمت اور عزیمت تو رکھتے ہیں مگر بصیرت میں ضعف لاحق ہے اور دین کی حقیقت سے آشنائی کم ہے۔ عمل میں بلا کے تیز مگر حق کے علم سے بالکل کورے! بڑا ہی مشکل ہے کہ اولیاءرحمن اور اولیاءشیطان میں تمیز کرلیں۔ حق اور باطل کے معاملے میں بات کو بآسانی پالیں۔ یہ ہر چمکتی چیز پر سونے کا گمان کر لیتے ہیں اور ہر کڑوی دوا کو زہر سمجھ بیٹھتے ہیں۔
ان تینوں موخر الذکر اصناف میں ایسے لوگ نہیں پائے جاسکتے جو دین میں امامت کا منصب پائیں اور نہ ہی یہ منصب ان کیلئے بنا ہے۔ یہ رتبۂ بلند صرف پہلی قسم کے لوگوں کا ہی نصیب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ. (السجدة : 24)
”ہم نے ان میں سے امام (پیشوا) بنائے جو ہمارے حکم سے راہ بری کرتے؛ یہ تب جب وہ صبر وثبات کرنے لگے اور تھے وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے“
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے منصبِ امامت پانے کی دو بنیادیں ذکر فرمائیں:
ایک ان کا صبر وہمت اور دوسرا اللہ کی آیات پر انکا یقین اور رسوخ۔ ان دو باتوں کے سبب ہی وہ دین کے امام ہوئے .... “
(الجواب الکاف ¸ لمن س أل عن الدواءالشافی، ص 82)


(1) العنکبوت: 49 ”یہ تو آیات بینات ہیں، سینوں میں ان لوگوں کے جن کو علم دیا گیا“

جاہل دیندار

جاہل دیندار، کہ اللہ کی بابت کوئی علم، نہ اُس کے اسماءوالقاب سے واقفیت، نہ اس کی صفات سے آگاہی.. علم کے نام پر کچھ سیکھا تو صفات کی تعطیل، یعنی نری جہالت.. اور اس پر ظلم یہ کہ لوگوں کو خدا کا پتہ دینے بیٹھے ہیں..!
مخلوق کے دلوں میں خدا کے لئے نفرت پیدا کرنا ان دین داروں کا گویا صبح شام کا مشغلہ ہے۔ محبت، چاہت اور طلب کے جتنے راستے خدا تک جاتے ہیں، اپنی لاعلمی اور جہالت سے یہ ان سب راستوں کو مسدود کرنے میں لگے ہیں۔ خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کی جو اصل روح ہے اور خدا کی جانب بڑھنے کا جو اصل لطف ہے اس کا ستیاناس کر کے رکھ دینا ان کی کل کارگزاری بن گئی ہے۔ عقیدے کی وہ جاہلانہ تشریحات کریں گے اور کلام کے وہ مبحث چھیڑیں گے کہ بندگی کے سب نفیس جذبے اور عبدیت کی سب بے ساختگی تباہ ہو کر رہ جائے۔
اس کی مثالیں یوں تو ختم ہونے میں نہیں آتیں، مگر ہم یہاں صرف ایک جہالت کا ذکر کریں گے....
عام لوگ جوکہ ضعیف نفوس کے مالک ہوتے ہیں اور بے چارے دین سے بھی لاعلم، جب وہ دین کی طرف آتے ہیں، تو کچھ جاہل، جن کو زعم ہے کہ یہ خدا سے واقف ہیں، عوام الناس کو خدا کا کچھ اس انداز کا تعارف کرائیں گے:
’ارے کہاں بھائی، اُس کا کچھ پتہ نہیں، خوش ہوجائے تو کسی بھی بات سے خوش ہوجائے، پکڑ لے تو کسی بھی بات پر پکڑ لے! ٹھیک ہے عبادت کرو ، مگر بھروسہ کسی چیز کا نہیں، بڑے بڑے عبادت گزار نمازی پرہیزی یہاں ہو گزرے، کہ کبھی کوئی ایک نیکی نہ چھوٹی ہوگی، صبح شام جب دیکھو نیک اعمال میں مصروف، مگر پکڑے گئے تو پکڑے گئے! آدمی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ خدا کے داؤ سے بے خوف ہوجانا (أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللّهِ فَلاَ ۔ الاعراف: 99) تو ویسے بھی از روئے قرآن مذموم ہے! کوئی پتہ نہیں کس دن تقدیر اپنا کام دکھائے اور ایک متقی جس کی ساری زندگی محراب کے اندر عبادت میں گزری، اگلے دن دیکھو تو شراب خانے میں جام تھام کر بیٹھا ہو، توحید کا ایک علمبردار کل کو مشرک بنا ہوا ہو، جو آج تسبیح کرتا نہیں تھکتا کل ناچ گانے میں مست ہو! خدا کسی کے دل کو ایک دم میں پلٹ دے اور وہ قسمت کا مارا خالص ایمان سے صریح کفر میں جا پڑے! اپنے اس انداز فکر پر یہ کچھ نصوص اور آثار بھی لے کر آئیں گے جن میں سے کئی ایک مستند ہوں گے مگر ان نصوص کو انہوں نے سمجھا نہایت غلط معنیٰ میں ہو گا، جبکہ کچھ ایسے نصوص اور آثار لائیں گے جو ویسے ہی غلط اور بے بنیاد ہیں اور جن کی معصوم سے نسبت ہی ثابت نہیں۔
ظالم سمجھتے ہیں کہ توحید اور تقدیر پر ایمان رکھنا خدا کی قوت اور قہر کی بابت کچھ اسی انداز کا اعتقاد رکھنا ہے! اپنے اس مفہوم کے ثبوت پر یہ آیات پڑھ پڑھ کر سنائیں گے اور ’دلائل‘ دیں گے:
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (الاَنبیاء: 23)
”خدا جو کرے اس کیلئے جوابدہ نہیں، اور وہ (مخلوقات) جواب دہ ہیں“
أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (ال اَعراف: 99)
”کیا یہ لوگ اللہ کے داؤ سے نڈر ہوگئے ہیں؟ (سن لو کہ) اللہ کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں “
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ (ال اَنفال: 24)
اور جان رکھو، اللہ بندے اور اس کے دل کے مابین حائل ہوجاتا ہے“
پھر ابلیس کا قصہ اِس موضوع پر کچھ اس انداز سے سنائیں گے کہ ہزاروں سال وہ فرشتوں کے سر کا تاج بنا رہا تھا، آسمان کا کوئی گوشہ اس نے چھوڑاور نہ زمین کا کوئی چپہ جہاں اس نے سجدہ یا رکوع نہ کر رکھا ہو، کہ اچانک اس پر تقدیر کی قلم چلی اور ایک لمحے میں وہ پرہیزگار سے بدکار جا بنا!
حتیٰ کہ ان کے بعض ’پہنچے ہوئے‘ خدا سے یوں ڈرائیں گے، معاذ اللہ، جیسے شیر سے ڈرایا جاتا ہے، کہ جو آپ پر حملہ آور ہوتا ہے تو کچھ اس وجہ سے نہیں کہ آپ سے اس کے حق میں کوئی قصور ہوا ہے!
کبھی یہ نبی کی اس حدیث کا حوالہ دیں گے، کہ: ’تم میں سے کوئی شخص اہل جنت کے سے اعمال کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین ایک ہاتھ کا فاصلہ ہوتا ہے، تب لکھا ہوا غالب آجاتا ہے، تو وہ اہل دوزخ کے سے اعمال کرنے لگتا ہے ، پھر دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے‘!
کبھی یہ اپنی اس کوتاہ فہمی پر سلف کا یہ قول روایت کریں گے کہ: ’کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے: اللہ کے داؤ سے بے خوف ہوجانا اور اس کی رحمت سے مایوس ہوجانا‘۔ اور یہ کہ امام احمد نے عون بن عبد اللہ یا کسی اور بزرگ سے بیان کیا کہ انہوں نے کسی شخص کو دعا کرتے سنا: ’یا اللہ مجھے اپنے داؤ سے بے خوف نہ کر‘ تو انہوں نے اس کی تصحیح کرتے ہوئے کہا، دعا یوں نہیں بلکہ یوں کرو: یا اللہ مجھے ان لوگوں میں سے نہ کر جو تیرے داؤ سے بے خوف ہو گئے“۔
ان کی یہ سب گمراہی جس ایک باطل بنیاد پہ سہارا کر رہی ہوتی ہے وہ ہے: ان ظالموں کا خدا کے ہاں حجتِ بالغہ اور حکمتِ لامتناہی پائے جانے کا انکار کر بیٹھنا یا پھر خدا کے لطف و کرم اور عدل و رحمت اور حکمت و دانائی والی صفت پر اس انداز سے زور نہ دینا جس انداز سے یہ جاہل ’تقدیر کے کرنے‘ پر زور دیے رکھتے ہیں۔ مخلوقات میں ہدایت اور گمراہی پانے کا کوئی ایسا واقعہ ہوا تو ان کے خیال میں گویا نہ تو اس کی کوئی علت ہوتی ہے اور نہ اس کے کچھ نہایت معقول اسباب! گویا اللہ کے کام (معاذ اللہ) نہ تو دانائی اور خرد سے پر ہوتے ہیں اور نہ کسی حقیقی سبب سے انکا کوئی تعلق، بلکہ گویا وہ محض اپنی ’مشیئت‘ سے فیصلے کر ڈالتا ہے جن کے پیچھے نہ تو نہایت عظیم حکمتیں کارفرما ہوتی ہیں، نہ اس کی کوئی نہایت زبردست علت پائی گئی ہوتی ہے اور نہ کوئی سبب ہی ہوتا ہے!!! اور یہ کہ اللہ جو کرتا ہے (معاذ اللہ) بس یونہی کر دیتا ہے، بندے کی طرف سے ہرگز اس کی کوئی وجہ فراہم کی گئی ہوتی ہے اور نہ کوئی بنیاد! اور یہ کہ وہ چاہے تو اہل اطاعت کو بدترین عذاب میں پہنچا دے اور اپنے دشمنوں اور اہل معصیت کو بہترین ثواب پہ لے جائے یا اس سے برعکس کرے، اور یہ کہ ہر دو امر اس کے حساب سے معاذ اللہ ایک برابر ہیں!
اب جب عمل کرنے والا یہ دیکھتا ہے کہ کوئی قاعدہ اور اصول یہاں پایا ہی نہیں جاتا، اور معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ’خدا کے داؤ‘ کا کوئی بھروسہ ہی نہیں، تو پھر اُس کا تقرب پا رکھنے کا کیا اعتبار؟! اور اُس کی اطاعت وفرماں بردرای اور اس کے احکامات کی اتباع پہ اعتماد کی کہاں گنجائش؟! پھر تو یہ تھوڑا ہی وقت ہے، کیونکہ آگے تو معاملے کا کوئی سر پیر ہی نہیں! معاذ اللہ آخرت سے تو پھر یہ دنیا ہی بھلی، جس کے کوئی اصول تو ہیں! یہاں آپ بلندی سے چھلانگ لگائیں تو نیچے آگریں گے، آگ میں ہاتھ ڈالیں گے تو اس کو جلا بیٹھیں گے، مگر آخرت کا تو معاملہ ہی اور ہے، کیا پتہ کریں کچھ اور ہو جائے کچھ! ہم اپنی سب خواہشات بھی چھوڑ دیں، سب مزوں کو خیرباد بھی کہہ دیں، عبادت میں صبح شام جتے بھی رہیں، مگر بھروسہ ہرگز نہیں کہ وہ ہمارے ایمان کو ہی ایک دم کوئی ایسا پلٹا دے کہ وہ کسی دن کفر بنا ہوا ہو! (معاذ اللہ) ہماری توحید کسی دن شرک بنی پڑی ہو، اطاعت معصیت بن گئی ہو، نیکوکاری بدکاری میں بدل گئی ہو.... یوں دنیا تھی سو گئی اور آخرت ہے سو وہ برباد!
عوام الناس کے اذہان میں جب یہ طرز فکر جاگزیں ہو جائے گا، اور یہیں سے ان کی ایک ’دینی نفسیات‘ تشکیل پائے گی تو بھلا ہوگا کیا؟ جب ان کو خدا کے احکامات سنائے جائیں اور حرام خواہشوں اور لذتوں سے دستکش رہنے کی بات کی جائے گی تو ان کا حال اس بچے کا سا ہوگا جس کا باپ اس کو مکتب بھیجتا ہے تو ساتھ میں وہاں کے استاد کا تعارف کچھ یوں کراتا ہے: یہ استاد ہے تو بہت لائق، پر کچھ پتہ نہیں تم بہت اچھا لکھ کر اؤ، اور سبق یاد کرنے کا حق ادا کردو، اور مکتب میں اس کے ہر ہر حکم کی تعمیل بھی کرتے رہو، مگر وہ پھر کوئی ایسی حجت نکال لے کہ تمہیں نہایت سخت سزا مل جائے! اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ تم حد درجہ نالائقی دکھاؤ، کوئی ایک سبق یاد کر کے نہ دو، اور کسی ایک حکم کی تعمیل نہ کرو مگر اس سے زبردست تحسین اور انعام پاکر گھر لوٹو! اب اس بچے کا یہ حال ہوگا کہ ماسٹر اس کو جب بھی تنبیہ کرے گا کہ فلاں سبق یاد نہ ہوا یا فلاں کام نہ کیا گیا یا فلاں حکم نہ مانا گیا تو یہ اور یہ سزا ملے گی، یا یہ کہ فلاں اچھا کام کرنے پہ یہ اور یہ انعام دیا جائے گا.... تب بچہ نہ تو اس کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لے گا اور نہ اس کے وعدۂ انعام کو، آخر اصول جو کوئی نہیں! ایسا بچہ کیا خاک پڑھ کر اور سدھر کر آئے گا؟
اب جب یہ بچہ کچھ بڑا ہوکر عملی زندگی میں قدم رکھنے کے قابل ہوتا ہے اور کسی ملازمت پر لگنے کی نوبت آتی ہے، تو بزرگوار اس کو حاکم وقت کا تعارف کچھ اس انداز سے کراتے ہیں: ہمارے شہر کا یہ جو حاکم ہے، کچھ نہیں کہہ سکتے یہ چور کو کسی دن جیل سے نکالے اور امیر وزیر کے کسی منصب پر فائز کردے، اور کسی نہایت محنتی، ایماندار اور فرض شناس اہلکار کو قیدخانے میں ڈال دے، بلکہ تو یہ پتہ نہیں اس کو سولی پر لٹکا دے! اب یہ نوجوان کیوں نہ حاکم سے بدک کھڑا ہو؟ اس کو نہ حاکم کے کسی وعدے پر بھروسہ ہوگا اور نہ کسی تنبیہ اور وعید کا یقین۔ یہ اپنے امیر سے محبت تو خیر کر ہی کیا پائے گا، ڈرے گا تو ویسے ہی جیسے ایک ظالم سے ڈر کر رہا جاتا ہے جو نوازنے پر آئے تو ایک گناہگار کو نواز دے اور پکڑنے پر آئے تو ایک بے گناہ کو پکڑ لے!
اب ایسا شخص کیونکر یہ اعتقاد رکھے کہ نیک اعمال لازماً نفع بخش ہیں اور برے اعمال پکڑوا کر رہتے ہیں؟ اب نہ یہ نیکی کے اندر اطمینان پائے اور نہ شر سے اس کو وحشت ہو۔ کیا خدا سے خلقت کو بھگانے اور اُس کی عبادت سے نفرت دلانے میں اس سے بڑھ کر کوئی چیز ہوسکتی ہے؟ بخدا سب ملحد اور زندیق اکٹھے ہو کر بھی انسانوں کو دین سے متنفر کرنے اور خدا سے وحشت دلانے میں وہ کارکردگی نہ دکھا سکیں گے جو یہ دیندار دکھا لیتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے یہ لوگوں کو توحید اور تقدیر پر ایمان دلاتے ہیں، اور تقدیر کے منکر بدعتیوں کا رد کر کے دین کی نصرت کا حق ادا کر رہے ہیں! بخدا، ایک عقلمند دشمن ایک جاہل دوست کی نسبت کہیں وارے کا ہے۔ خدا کی سب کتابیں اور سب رسول اِن کے باطل ہونے پر صاف شہادت ہیں، خصوصاً خدا کی آخری کتاب قرآن مجید۔
دین کے یہ داعی، لوگوں کو دین پر لانے میں اگر وہ منہج اختیار کرتے جو اللہ نے اور اس کے رسول نے لوگوں کے اندر دین کی حقیقت جاگزیں کرانے کیلئے اختیار کیا تو کیا ہی بہتر ہوتا۔ اصلاح کی ایک ایسی صورت سامنے آتی کہ فساد نام کو نہ رہتا....
اللہ رب العزت نے قرآن میں جگہ جگہ یہ حقیقت واضح فرمائی، جبکہ اس کا قول سچ ہے اور اُس کا وعدہ وفا ہو کر رہنے والا ہے، کہ لوگوں کے ساتھ اُس کا معاملہ لوگوں کے اپنے ہی کسب کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اور یہ کہ وہ ان کو ان کے اپنے اعمال ہی کی جزا دینے والا ہے، نہ کہ محض اپنے کسی فعل کی بنا پر معاذ اللہ ان کو گمراہی میں ڈالنے والا۔ اور یہ کہ نیکوکار کو اس کے ہاں کوئی ڈر ہونا ہی نہ چاہیے کہ اس پر ظلم ہوگا، یا اس کا کوئی حق مارا جائے گا، یا حتیٰ کہ اس میں کوئی کمی کر دی جائے گی، یا کسی بھی قسم کی کوئی زیادتی ہوگی۔ (قرآن کے اندر اس سیاق میں مختلف جگہوں پہ بدل بدل کر چار الفاظ ایسی کسی بھی زیادتی کے امکان کی نفی کیلئے آئے: بندے کو اپنے رب کے ہاں نہ ’ظلم‘ کا ڈر، نہ ’ہَضم‘ کا، نہ ’بَخس‘ کا اور نہ ’رَہَق‘ کا)۔ خدا کی کتاب بار بار بتاتی ہی یہ ہے کہ انسانوں کا مالک کسی نیکی کرنے والے کا کوئی بھی عمل ضائع نہ کرے گا، اور یہ کہ ایک ذرہ بھی خیر کا ہوگا تو وہ ہرگز ضائع جانے نہ دیا جائے گا۔ کیسا کیسا خوبصورت بیان قرآن کے اندر آیا:
إِنَّ اللّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء: 40)
”اللہ ایک ذرہ برابر ظلم کرنے والا نہیں۔ اگر نیکی (کی) ہو گی، تو وہ اُس کو کئی گنا بڑھا دینے والا ہے اور خود اپنے ہاں سے اجرِ عظیم بخش دینے والا“!!!
اُس کی کتاب بار بار بتلاتی ہے کہ رائی برابر کوئی نیکی اس کے ہاں پوشیدہ نہ رہ پائے گی بلکہ میزان میں تلنے کیلئے سامنے لا رکھی جائے گی۔ اور یہ کہ کسی نے برائی کی ہے تو اس کا بدلہ صرف ایک مثل ہوگا، بلکہ اگر وہ توبہ کر لے اور ندامت اور استغفار کی راہ اختیار کرے ، تو اس ایک مثل کو بھی وہ کالعدم کر دے گا۔ اِس کے دامن میں کچھ نیکیاں ہیں تو اِس کی اس برائی کو وہ اِس کی نیکیوں کے بدلے میں ہی ختم کر ڈالے گا۔ کسی وقت ان مصائب کو ہی جو اس پر دنیا میں آئے ہوں، اس کی برائی کا کفارہ بنا دے گا۔ البتہ اگر اس نے نیکی کی ہے تو اس کا بدلہ وہ مہربان ایک مثل نہیں، پورے دس مثل دے گا۔ بلکہ بعید نہیں سات سو مثل تک بڑھا دے، بلکہ تو بڑھاتا ہی جائے!
پھر خدا کی کتاب اور خدا کا رسول پروردگارِ عالم کا تعارف کراتا ہے کہ وہ ذات ہے جو برائی کا شکار ہوجانے والوں کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ مردہ دلوں کو زندگی دیتی ہے۔ گناہگار وں کی توبہ قبول فرماتی ہے۔ در پہ آئے کو، چاہے وہ گناہوں کے پہاڑ اٹھا لایا ہو، بخشے بغیر لوٹانا اس کی شان نہیں۔ گم گشتہ راہ کو، جب وہ ہدایت کا سوال کرلے، راہ دکھانا اس کی صفت ہے۔ تائب کو باریاب کرنا اس کے دربار کا آئین ہے۔ اس سے بھاگا ہوا خواہ کسی حد تک کیوں نہ چلا گیا ہو، اس کے پاس لوٹ کر آئے تو خیر مقدم کے سوا کسی اور سلوک کی توقع نہ ہونی چاہیے۔ وہی ہے جو جاہلوں کو علم دے۔ بے شعوروں کو بصیرت دے غافلوں کو یاد دہانی کرائے اور قلوب کی زندگی کیلئے زمین پر کتابوں کا نزول اور رسولوں کی بعثت فرمائے۔ پھر جب وہ کسی کو عذاب بھی دے تو اس کے بغاوت کی ایک خاص حد کو پہنچ لینے کے بعد اور خود سری کے حد سے بڑھ جانے کے بعد، اور وہ بھی تب جب اپنی جانب لوٹ آنے اور اپنی خدائی اور کبریائی کا اعتراف کر لینے کی باقاعدہ دعوت وہ بندے کو پہنچا چکا ہو، بلکہ بار بار اس کو یاد دہانی کرا چکا ہو۔ پھر جب بندہ یہ امکان ہی ختم کر دے کہ وہ اُس کی ربوبیت اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کر کے دے گا اور اس کی تعظیم اور بندگی کا راستہ اختیار کرنے پر تیار ہوگا.. تب جا کر وہ اس کے کفر اور اس کی سرکشی اور خود سری کی کچھ سزا اس پر وارد کر دیتا ہے۔ یہاں تک بتایا کہ خدا بندے کا عذر ختم کر دینے میں اس حد تک جاتا ہے کہ دوزخی عذاب لیتے ہوئے صاف تسلیم کریں گے کہ سب قصور انہی کا تھا:
فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ (الملک: 11)
”پس وہ اپنے گناہ کااقرار کریں گے سو دوزخیوں کے لئے (رحمتِ الٰہی سے) دُوری ہے“
حتیٰ کہ دنیا میں کسی قوم پر اس کا عذاب آیا تو اس کی تصویر ہمیں یوں دکھائی گئی:
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ (الاَنبیاء: 14- 15)
”کہنے لگے ہائے شامت! بیشک ہم ظالم تھے۔ وہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح ) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کر دیا“
حسن بصریؒ فرماتے ہیں: یہ جہنم میں جائیں گے، جبکہ خدا کے عدل کی تعریف ان کے دلوں میں ہوگی، کہ وہ اُس پر کوئی حجت نہ رکھ پائے اور نہ ہی وہ اپنا کوئی جواز سامنے لاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں واؤ، حالیہ ہے:
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ  (ال اَنعام: 45)
”تو پھر ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جبکہ سب تعریف اللہ رب العالمین ہی کےلئے ہے“
یعنی ان کی جڑ کاٹ دی گئی اس حال میں کہ خدا اس پر لائقِ تعریف و ستائش ہی ٹھہرا۔ یوں جب وہ کسی کی جڑ کاٹے تو اس کا ایسا کرنا درحقیقت اُس کی تعریف اور اُس کے اِس پر سراہے جانے کا ہی موجب ہوگا کہ حکمت اور دانائی کا تقاضا ہی درحقیقت یہ تھا اور عدل تھا ہی یہ کہ وہ اپنی عقوبت عین وہاں نازل کرے جہاں اس کے نازل ہونے کا حق ہے۔ یوں کہ جیسا کسی مجرم کی بابت کہا جاتا ہے: یہ سزا اس شخص کو ہی ملنی چاہیے تھی اور یہ شخص اس سزا کا ہی حقدار تھا۔
یہی وجہ ہے سورۂ زمر کے آخری حصہ میں، جہاں خوش بختوں اور بد بختوں ہر دو کے انجام کی نہایت اثر انگیز تصویر کھینچ کر دکھا دی گئی، یوں کہ دونوں فریق اپنے اپنے ٹھکانے جا پہنچے، تو بات یہاں جا کر ختم ہوئی:
وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الزمر: 75)
”اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور کہہ دیا گیا ”تعریف اللہ ہر طرح کی اللہ ہی کو سزاوار ہے جو مالک ہے سب جہانوں کا“
یہاں قِيلَ یعنی مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیا، جس کے اندر فاعل مذکور نہیں ہوتا.. یہ بتانے کیلئے کہ پوری کائنات اور سب مخلوقات نے یک زبان ہو کر خدا کا فیصلہ سن کر کہا: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ  ”تعریف اور ستائش اللہ کی جو مالک ہے سب جہانوں کا“!
اسی مقام کی یہ آیت، جو اس سے ذرا ہی پہلے گزری ہے:
قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ (الزمر: 72)
” کہہ دیا جائے گا: داخل ہوجاؤ دوزخ کے دروازوں میں، ہمیشہ اس میں رہنے کے لئے، تکبر کرنے والوں کا بُرا ٹھکانہ ہے“
یہاں بھی  قِيلَ کا لفظ آیا۔ گویا پوری کائنات ان بد بختوں کو کہہ رہی ہے کہ جاؤ جہنم میں۔ حتیٰ کہ ان کے اعضاءان کو یہی بات کہہ رہے ہیں، ان کی روحیں ان کو کہہ رہی ہیں، ان کے پیروں تلے کی زمین، سر اوپر کا آسمان سب کچھ گواہی دے رہا ہے کہ وہ لائق ہی اسی کے تھے۔
جہاں اس نے اپنی کتاب میں کسی قوم کی ہلاکت کا قصہ سنایا وہیں کچھ لوگوں کے بچ جانے کی خبر بھی مذکور کر دی، اور یہ بات بھی ذکر کئے بغیر نہ چھوڑی کہ ہر دو فریق کے ساتھ اس قدر مختلف برتاؤ رکھا گیا تو آخر کیوں؟ حالانکہ وہ چاہتا تو محض اپنی مشیئت سے سب کو ہی ہلاک کر ڈالتا! نوحؑ نے جب پانی میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے لخت جگر کی نجات کیلئے فریاد کی تو اُس ذات کبریائی نے اس درخواست کو صاف رد کر دیا اور بغیر کسی ادنیٰ تاخیر کے یہ بتایا کہ اس فرزند کے ”عمل غیر صالح“ ہیں، یہ نہیں کہا اس کو ہلاک کر ڈالنا نری میری مرضی اور مشیئت ہے جس کا اس کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں!
پھر اُس نے ان کے لئے جو اُس کی راہوں کو پانے کیلئے کوشش اور تگ ودو کریں، اور بھی ہدایت دینے کی ضمانت اٹھائی:وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:69)۔ کیا اُس کی اِس بات سے واضح نہیں کہ خدا کا کسی کو ہدایت نصیب فرمانا دراصل انسانی جہد کا ہی خدائی صلہ ہے؟
اسی طرح جو لوگ تقویٰ کی راہ اپنائیں اور اُس کی خوشنودی کے اسباب ڈھونڈیں، ان کیلئے اور بھی ہدایت کی ضمانت اٹھائی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْواهُمْ  (محمد: 17)
اُس نے صاف بتا دیا کہ وہ کس طرح کے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے:وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلاَّ الْفَاسِقِينَ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ۔۔ (البقرۃ: 26-27) پس وہ انہی لوگوں کو گمراہ کرے گا جو ہیں ہی بدکار، جو خدا کے عہد کو اس کے میثاق کے بعد توڑ دینے پر اتر آئیں۔ اُس نے بے شمار انداز میں واضح فرمایا کہ وہ انہی لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو گمراہی کو ہی ترجیح دیں اور اسی کو ہدایت پر مقدم جانیں۔ تب پھر وہ ضرور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ ایسا شخص جس کو اُس کی ہدایت پہنچی اور بار بار اس کے کان میں ڈالی گئی مگر اس نے اپنی اس گمراہی کی حالت کو ہی اپنے دل سے لگا کر رکھا اور خدا کی ہدایت پر ایمان لانا قبول ہی نہ کیا، بلکہ الٹا اس کو رد کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا اور خدا کی اس بات کو ہی غلط اور باطل ثابت کرنے اور اس کو رسوا کرنے پر کمر بستہ ہوگیا تو ایسے شخص کا ضرور پھر وہ دل ہی اوندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھیں حق کیلئے اندھی کر دیتا ہے، جوکہ اُس کی جانب سے اس بات کی سزا ہوتی ہے کہ وہ یہ جان لینے کے بعد کہ یہ جہانوں کے مالک کی طرف سے ہے، اس کے ساتھ دشمنی کرنے پر اتر آیا تھا۔
اُس نے یہ تک واضح کیا کہ اس صورتحال میں بھی کہ جس کو گمراہی اور بدبختی کہا جاتا ہے، وہ ان نفوس میں خیر کی کوئی رمق پائے تو وہ ان کے کان میں نیکی اور ہدایت کی بات ضرور کسی نہ کسی طرح ڈال دے: وَلَوْ عَلِمَ اللّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأسْمَعَهُمْ  (الانفال: 23) مگر وہ جانتا ہے اور صرف وہی جان سکتا ہے ان کے یہ دل ہدایت کے لائق ہیں ہی نہیں۔
رسولوں کو مبعوث فرمانے اور کتابیں اور شریعتیں اتارنے کا یہ سارا سلسلہ خدا نے ان کے عذر ختم کرنے کیلئے ہی تو جاری کیا اور اپنی حجت واضح کر دینے کیلئے ہی تو قائم فرمایا! ہدایت کے اس قدر اسباب مہیا فرمائے کہ کسی کے پاس کہنے کو کچھ رہ ہی نہ جائے۔ قرآن میں کس طرح بار بار اور پیرائے بدل بدل کر یہ واضح فرمایا کہ وہ نہیں گمراہ کرتا مگر بدکاروں اور ظالموں کو ہی۔ اور یہ کہ وہ ٹھپہ نہیں لگاتا مگر حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ہی۔ اور یہ کہ وہ فتنہ کے اندر اوندھا کر کے نہیں پھینکتا مگر منافقت کی راہ اختیار کرلینے والوں کو ہی۔ اور یہ کہ کافروں کے دلوں پر جو زنگ چڑھتا ہے وہ ان کے اپنے ہی کسب اور کمائی کی بدلی ہوئی ایک صورت ہے (كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔۔ المطففین: 14) یعنی ان کے جو کرتوت ہیں وہ ہی زنگ بن کر ان کے دلوں کے اوپر جم گئے ہیں۔ اپنے دشمن یہود کے بارے میں اُس نے واضح فرمایا: وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلاً (النساء: 155) یہ ٹھپہ ان کے دلوں پر خدا کی طرف سے لگا ہے، مگر بِكُفْرِهِمْ ’ان کے اپنے ہی کفر کے سبب‘۔ اور جگہ واضح فرمایاکہ اُس کا یہ طریقہ نہیں کہ جب وہ کسی کو ہدایت دے دے تو پھر ان کو گمراہی دے تاآنکہ وہ ان پر آخری حد تک واضح نہ فرما چکا ہو کہ انہیں کس کس چیز سے حد درجہ بچ کر رہناہے:وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ (التوبہ: 115) یعنی وہ اُس کی جانب سے واضح کر دیے جانے کے بعد پھر اپنے فیصلے اور اختیار سے بدبختی اور ضلالت کو ہی ہدایت کی بجائے اپنے لئے اختیار کر لے اور خدا کو صاف مسترد کرتے ہوئے شیطان کو ہی اپنی دوستی اور کارسازی کیلئے چن لے تو وہ بھی پھر اپنے دشمن کے دوست کو اپنی دوستی اور ولایت (کارسازی) سے بے دخل کر دیتا ہے۔
ایسے بے شمار مقامات اور حوالے جو قرآن میں بوضاحت بیان ہوئے کیا یہ بتانے کیلئے کافی نہیں کہ بندے کو خدا کی جانب سے گمراہی میں دھکیل دیا جانا خود بندے کے ہی کسب اور فعل کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ ابتداءً اس کا سبب؟ اور یہ کہ خدا کا ایسا کرنا محض کسی بات کی جزا ہوتی ہے، جس سے آپ سے آپ یہ واضح ہے کہ اس کی نوبت بعد میں آتی ہے، جبکہ پہل بندے ہی کی جانب سے ہوچکی ہوتی ہے؟ بلکہ بندے کو بدبختی سے بچ رہنے کے کافی سے زیادہ مواقع تک دیے جا چکے ہوتے ہیں؟
رہ گیا آیت أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللّهِ ”کیا یہ لوگ اللہ کے داؤ سے نڈر ہوگئے ہیں؟“ (الاَعراف: 99) سے ان لوگوں کا اپنے اس خیال پر استدلال کرنا.. تو اس آیت کا سیاق ہی درحقیقت کچھ اور ہے۔ ’مَکر‘ کا یہ لفظ اللہ رب العزت کیلئے علیٰ وجہ الجزاءآیا ہے، یعنی ان ظالموں کے مکر کا مکر سے جواب دینا جو اللہ کے ولیوں اور رسولوں کے خلاف داؤ چلتے ہیں۔ وہ اللہ کے حزب کے خلاف ایک گھناؤنا داؤ چلتے ہیں تو اللہ ان کے خلاف نہایت حق داؤ برتتا ہے۔ پس ’داؤ‘ کا لفظ دشمنان خدا کے لئے نہایت قبیح معنیٰ میں آیا ہے اور اللہ ذو الجلال کیلئے نہایت خوب معنیٰ میں، مگر آیا علی سبیل الجزاءہے۔ چنانچہ سورۂ اعراف میں یہی بات کی گئی ہے کہ یہ بدبخت جو حق کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے صبح شام نبوتوں اور رسالتوں کے خلاف چالیں چلتے ہیں کیا یونہی بڑے آرام سے چین کی نیند سوئیں گے، اور خدا تو ان کی کسی چال کا جواب ہی نہ دے گا، کہ ان کے خیال میں تیزی اور چالاکی بس انہی کا خاصہ ہے!؟ اسی وجہ سے آیت کے آخری حصہ میں واضح کیا گیا کہ سب سے بڑھ کر اپنا ہی نقصان کرانے والے کوئی ہو سکتے ہیں تو وہی جو چال بازی کی صورت میں خدا کے ساتھ ماتھا لگا بیٹھتے ہیں۔فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ۔
رہ گیا ان کا اس حدیث سے استدلال کرنا کہ ’تم میں سے ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین ایک ہاتھ جتنا فاصلہ رہ جاتا ہے، تب لکھا ہوا اس پر غالب آتا ہے....“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے دیکھنے میں(1)ایک شخص کے عمل اہل جنت والے ہوتے ہیں۔ ورنہ اگر وہ اللہ کی نظر میں صالح اور مقبول ہوں اور واقعی جنت کے قابل ہوں، اور اللہ کو پسند آچکے ہوں اور اُس کی نظر میں وقعت پا چکے ہوں تو اللہ انہیں یوں ناکارہ کر کے نہ رکھ دے۔
یہاں لم یبق بینہ وبینہا اِلا ذراع ”اس شخص کے اور (جنت) کے مابین ایک ہی ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا ہوتا ہے“ کے لفظ سے کئی لوگوں کو اشکال پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اصل اعتبار آدمی کی زندگی میں اعمال کی آخری حالت کا ہی ہوتا ہے، نہ کہ ان اعمال کا جو وہ پہلے کسی وقت زندگی میں کرتا رہا ہو۔ مگر یہ ایک ایسا شخص تھا جس کے اعمال کے اپنے ہی اندر کوئی کھوٹ تھا اور کچھ پوشیدہ آفتیں تھیں جن کو بڑھنے کیلئے چھوڑ دیا گیا اور جو آخر عمر میں جا کر اس کو دغا دے گئیں، یوں اس کا معاملہ الٹ گیا اور وہ ان نیک اعمال سے، جن کے وہ قابل ہی نہ تھا، کلیتاً محروم ہوگیا۔ اگر ابتدا سے اس نے اپنی عبادت اور اطاعت میں وہ کھوٹ نہ رہنے دیا ہوتا اور ان آفتوں کو وہ اپنے سامانِ آخرت سے نکال نکال کر پھینکتا رہتا تو وہ اتنی پل نہ چکی ہوتیں کہ وہ آخر اس کے لٹ جانے کا ہی سبب بن جائیں۔ وہ اپنے عمل کو صاف ستھرا اور خالص اللہ کیلئے کئے رکھتا تو اللہ بھی اس کے ایمان کو کفر میں ڈھل جانے کیلئے یوں بے یار ومددگار نہ چھوڑتا۔
رہ گیا ابلیس کا واقعہ، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھا: اِنی اَعلم ما لا تعلمون کہ ’میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘۔ چنانچہ پروردگار عالم جانتا تھا کہ ابلیس دل میں کیا کچھ رکھ کر بیٹھا ہے اور کیسا کیسا کفر اور کبر اور حسد اس کے اندر پل رہا ہے، جس کا کہ فرشتوں کو سان گمان تک نہ تھا۔ پھر جب سجدے کا حکم ہوا تو سب کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ باہر آگیا۔ جن کے دلوں میں پاکیزگی اور اطاعت تھی، محبت، خشیت اور فرماں برداری تھی، وہ فوراً سر تسلیم خم ہوگئے۔ اور جس کے دل میں کبر، کھوٹ، حسد اور گندگی تھی، وہ اپنا آپ بتائے بغیر نہ رہا، حکم ماننے سے صاف انکاری ہوا، گھمنڈ میں آیا اور کافروں میں جا شامل ہوا۔
اللہ مالک الملک البتہ مطلق لائق حمد ہے۔ عیب، معاذ اللہ، کیا ہم اس ذات میں ڈھونڈیں جس کو عیب سے پاک اور نقص سے مبرا کہنے پر کائنات کی ہر صالح مخلوق لگی ہے اور آسمانوں اور زمین میں ہر دم اُس کی تسبیح کرتی ہے؟! جتنا کسی کا علم اتنی اس کی خدا کے لئے تسبیح اور تنزیہ!!! اور اُس کی مطلق ثنا کا تو خود اُس کے سوا کسی کو یارا نہیں!!!
اَنت کما اَثنیت علیٰ نفسک، لا اَحصی ثناءعلیک!!!
(استفادہ از الفوائد، مؤلفہ ابن القیمؒ، ص 159- 165)

(1) امام ابن قیمؒ نے اس مشہور حدیث کی یہ جو وضاحت کی ہے (یعنی ’لوگوں کے دیکھنے میں‘) یہ وضاحت بھی دراصل ایک دوسری حدیث ہی سے ماخوذ ہے، اور یہ ابن قیم کا یا دیگر علماءکا ’نرا ’فہم‘ نہیں۔ یہ حدیث جو ابن قیم کی ذکر کردہ اس وضاحت کیلئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے، گو ابن قیمؒ نے یہاں درج نہیں کی کیونکہ یہ مقام تفصیل کا نہ تھا، مگر چونکہ اس حدیث کے حوالے سے بہت سے لوگوں کو ایک اشکال رہتا ہے، لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں پر وہ حدیث نقل کر دیں جو اس اشکال کو ہی سرے سے رفع کر دیتی ہے۔ اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ احادیث کو مجموعی طور پر ہی سمجھنا چاہیے، نہ کہ ایک آیت کو بقیہ آیات یا ایک حدیث کو بقیہ احادیث سے تنہا کر کے:
امام مسلم اپنی صحیح میں کتاب القدر (تقدیر کی کتاب) کے باب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن اَمہ وکتابۃ رزقہ و اَجلہ وعملہ (اس بات کا بیان کہ کیسے آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کیا جاتا ہے اور پھر اس کا رزق، اس کی اجل اور اس کا عمل (اسی وقت) لکھ دیا جاتا ہے) کے تحت یہ حدیث لاتے ہیں:
عن سہل بن سعد الساعدی، اَن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اِن الرجل لیعمل عمل اَہل الجنۃ فیما یبدو للناس وہو من اَہل النار۔ و اِن الرجل لیعمل عمل اَہل النار فیما یبدو للناس وہو من اَہل الجنۃ۔
سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے ، کہا، فرمایا رسول اللہ نے:
بے شک ایک آدمی لوگوں کے دیکھنے میں اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے مگر وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے۔ اور بے شک ایک آدمی لوگوں کے دیکھنے میں اہل دوزخ کے سے عمل کرتا ہے مگر وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے“
بنا بریں کثیر علماءنے اُس مشہور حدیث کو، جس میں ’لکھے ہوئے‘ کے غالب آنے کا ذکر ہے، اِس حدیث کی روشنی میں سمجھا ہے، جیسا کہ ابن قیمؒ کی مذکورہ بالاوضاحت سے عیاں ہے، بلکہ امام مسلمؒ کے اس حدیث کو ’تقدیر کی کتاب‘ میں ’ماں کے پیٹ میں تقدیر لکھی جانے سے متعلق باب‘ کے تحت لے کر آنے سے ہی یہ بات واضح ہے کہ امام مسلم اِس حدیث کو اُس حدیث کے ساتھ ملاکر ایک ساتھ سمجھنا ہی درست جانتے ہیں۔

بہرحال اُس مشہور حدیث کا یہ فہم تو نہایت غلط ہے کہ ایک آدمی کے جنت جانے کی تو پوری تیاری اور اہلیت ہوتی ہے، کہ اچانک کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جس پر اس کا کوئی اختیار ہی نہیں، کہ اس کا رخ یک لخت بدل جاتا ہے اور وہ دوزخیوں والے کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ دوزخ میں جا پڑتا ہے!اس غلط فہم کی وجہ سے ہی بعض منکرین حدیث کو اپنے طعن وتشنیع کیلئے اس حدیث کو نشانہ بنانے کا موقعہ ملا۔